حریت کنوینر غلام محمد صفی سے امن کے سفیر محمد طاہر تبسم کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے حریت قیادت کا کردار تاریخی نوعیت کا ہے اور آج مسئلہ کشمیر ایک بار پھر مرکز نگاہ بن گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایمبیسڈر آف پیس کے بانی صدر محمد طاہر تبسم نے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ انسانی، سیاسی اور سفارتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائٰع کے مطابق محمد طاہر تبسم نے اس موقع پر کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو قومی اور بین الاقوامی فورموں پر موثر طور پر اجاگر کر رہی ہے اور ایک مضبوط سفارتی بیانیہ بنا رہی ہے، جس کا سہرا غلام محمد صفی اور پوری حریت قیادت کے سر ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی اپنی جدوجہد آزادی کو اصولی بنیادوں پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے حریت قیادت کا کردار تاریخی نوعیت کا ہے اور آج مسئلہ کشمیر ایک بار پھر مرکز نگاہ بن گیا ہے۔ طاہر تبسم نے کہا کہ حق خودارادیت کشمیری عوام کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور جب تک یہ حق انہیں نہیں دیا جاتا، تحریک آزادی کشمیر کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے عالمی برادری کو اپنا فعال اور غیر جانبدار کردار ادا کرنا ہو گا، تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام قائم ہو سکے۔
حریت کنونیر غلام محمد صفی نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کو منظم اور توانا بنانے کے لئے ہمیں متحد ہو کر ہر محاذ پر یکسوئی کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔ طاہر تبسم نے اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد کے صاحبزادے کی المناک وفات پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کی بلندی درجات اور سوگوار خاندان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ ملاقات میں سینئر حریت رہنما الطاف حسین وانی، حاجی محمد سلطان، محمد شفیع ڈار اور سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غلام محمد صفی طاہر تبسم نے نے کہا کہ انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔