خیبر پختونخوا اسمبلی، سینیٹ کی خالی نشست پر پی ٹی آئی امیدوار کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
خرم ذیشان کو 91، اپوزیشن کے تاج محمد کو 45 ووٹ ملے،چار ارکان نے ووٹ نہیں ڈالا
136 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا، وزیر اعلیٰ ٹریفک میں پھنس گئے،پیدل اسمبلی پہنچ گئے
خیبر پختونخوا اسمبلی سے سینیٹ کی خالی نشست پر تحریک انصاف کے رہنما خرم ذیشان سینیٹر منتخب ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق پولنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی، کل 136 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا۔سینیٹ انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کے خرم ذیشان اور اپوزیشن کے تاج محمد آفریدی مدمقابل تھے۔ خرم ذیشان کو 91 اور تاج آفریدی کو 45 ووٹ ملے۔اپوزیشن کے چار ارکان نے ووٹ نہیں ڈالا جن میں جے یو آئی کے اکرم درانی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کی نادیہ شیر، ن لیگ کے علی ہادی اور پیپلزپارٹی کی فرزانہ شیر شامل ہیں۔پولنگ کے آغاز پر صرف تین اراکین اسمبلی میں موجود تھے تاہم الیکشن کمیشن نے باضابطہ پولنگ شروع کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ پی کے 115 سے تعلق رکھنے والے احسان اللہ خان نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا جبکہ اقلیتی رکن گورپال سنگھ نے بھی ووٹ کاسٹ کیا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی، امجد علی، شفیع اللہ، اورنگزیب خان اورکزئی، شیر علی آفریدی، آفتاب عالم آفریدی، ریاض خان، عبدالکبیر خان، عجب گل وزیر، سید قاسم علی شاہ سمیت دیگر ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا۔صوبائی اسمبلی آتے ہوئے وزیر اعلیٰ ٹریفک جام میں پھنس گئے تھے جس کے باعث گاڑی سے اتر کر پیدل اسمبلی پہنچ گئے، وزیراعلیٰ اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ پیدل آئے۔وزیراعلیٰ کے پی ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد بانی چیٔرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے راولپنڈی روانہ ہوئے۔صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختونخوا سعید گل کو ریٹرننگ آفیسر جبکہ جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر محمد فرید آفریدی، ڈائریکٹر الیکشنز محمد ندیم خان، ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا کوارڈینیشن سہیل احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر الیکشنز فہد علی شاہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر لاء محمد امجد کو پولنگ آفیسرز مقرر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ووٹ کاسٹ کیا ارکان نے ووٹ پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔