افغان طالبان کی ہٹ دھرمی کے سبب استنبول مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ ہوا، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی کے سبب معاملہ ڈیڈ لاک کی طرف چلا گیا۔
استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا دن 18 گھنٹے طویل بات چیت کے بعد اختتام پذیر ہوگیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران افغان طالبان کے وفد نے پاکستان کے خوارج (ٹی ٹی پی) اور دہشت گردی کے خلاف مصدقہ اور یقینی کارروائی کے پاکستانی مطالبے کو متعدد بار منطقی اور جائز قرار دیا۔میزبان ثالثوں کی موجودگی میں بھی افغان وفد نے اس بنیادی مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کیا، تاہم ہر مرتبہ کابل سے موصول ہونے والی ہدایات کے بعد افغان وفد کا مؤقف تبدیل ہوتا رہا۔۔۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل سے آنے والے غیر منطقی اور ناجائز مشورے ہی بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کا باعث بنے۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور میزبان فریق اب بھی نہایت سنجیدگی اور تدبر کے ساتھ ان پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ذرائع کے مطابق، اب بھی ایک آخری کوشش جاری ہے کہ طالبان کی ہٹ دھرمی کے باوجود معاملات کو مکالمے اور منطق کے ذریعے حل کیا جائے اور مذاکرات ایک ممکنہ آخری دور کی جانب بڑھ رہے ہیں۔خالدمحمود ایکسپریس نیوز آسلام آباد ۔۔۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل افغان طالبان
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔