پنجاب حکومت کا25 بڑے منصوبے جلد شروع کرنےکافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے 25 بڑے ترقیاتی منصوبے جلد شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جن میں انڈر پاسز، فلائی اوورز کی تعمیر، شاہراہوں کی توسیع اور سنگل سے دو رویہ شاہراہ بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔
ان منصوبوں پر کام کی مجموعی لاگت 88.65 ارب روپے ہے اور ان پر جلد ہی کام کا آغاز ہوگا۔
وزیر تعمیرات و مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر کو 25 منصوبوں کے حوالے سے پیشرفت کی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے افسران نے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
فضائی آلودگی کا وبال، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں پھر سرفہرست
وزیر مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا کہ لاہور میں 2.
شیخوپورہ تا فاروق آباد روڈ کو 6.94 ارب روپے کی لاگت سے دو رویہ بنایا جائے گا۔ وزیر نے تمام متعلقہ پروسیس کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
صہیب احمد بھرتھ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق تعمیر و ترقی کا سفر جاری ہے اور یہ منصوبے صوبے میں بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
حافظ آباد: بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، مرد و خواتین گتھم گتھا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔