پی ٹی آئی کی قیادت نابالغ ہے، تحریک لبیک پر پابندی لگنا اچھی بات ہے، فواد چودھری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نابالغ ہے، تحریک لبیک پر پابندی لگنا اچھی بات ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانا ایک درست اور مثبت اقدام ہے، کیونکہ یہ تنظیم پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔
فواد چوہدری نے اس موقع پر اپنی ہی جماعت کی قیادت پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نابالغ ہے اور چند لوگوں کے ہاتھ میں پارٹی ایسے آ گئی ہے جیسے بندر کے ہاتھ ماچس۔ اگر پارٹی کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو حالات کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ سہیل آفریدی کو کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی اور دیگر سینیئر رہنماؤں سے ملاقات کرنی چاہیے تاکہ انہیں مثبت مشورے مل سکیں اور سیاسی درجہ حرارت میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ کل پھر وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کو جیل میں بانیِ پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے ان کی تضحیک ہوئی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ یہ طرزِ عمل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے ۔
ٹی ایل پی سے متعلق گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک پرتشدد گروہ ہے، ان پر پابندی لگنا اچھی بات ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹی ایل پی کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس کیوں دائر نہیں کیا گیا؟
فواد چوہدری نے ملکی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنے ساڑھے تین سال ہو چکے ہیں مگر اب کمیٹیاں بنانا ان کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ملک کی معیشت تباہ حال ہے، فوجی جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور وزیراعظم صرف کمیٹیاں بنانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آرمی چیف معیشت اور خارجہ پالیسی پر بات کر رہے ہیں تو وزیراعظم کا کردار کیا رہ گیا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیزفائر 6 نومبر تک برقرار رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان امن ناگزیر ہے۔ فواد چوہدری نے افغانستان کو خبردار کیا کہ اگر وہ بھارت کے اشاروں پر چلا تو اس سے خود افغان عوام کو نقصان ہوگا۔
گفتگو کے دوران انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں یہ بھی کہا کہ اسد عمر نے خواجہ آصف کو پنجابی فلموں میں کام کرنے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ وہ قومی معاملات میں سنجیدگی دکھانے کے بجائے صرف بڑھکیں مارتے ہیں۔
قبل ازیں عدالت میں سانحہ 9 مئی کے مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں فواد چوہدری کے ساتھ اعظم سواتی اور اسد عمر بھی پیش ہوئے۔ عدالت نے اعظم سواتی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں 5 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے ان کی ضمانتوں پر دلائل طلب کر لیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فواد چوہدری نے پر پابندی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔