خیبرپختونخوا: انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست تیار,سر کی قیمت 3 کروڑ تک مقرر
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-08-24
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا کے مطلوب اشتہاری دہشت گردوں کی فہرست تیار کرلی گئی، یہ فہرست صوبائی انتظامیہ اور حساس اداروں نے مل کر تیار کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی تیار کردہ فہرست وفاقی وزارت داخلہ کو موصول ہوگئی ہے، فہرست میں 1349 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے کوائف شامل ہیں جبکہ فہرست میں شامل دہشت گردوں کے سر کی قیمت بھی مقرر ہے۔ وزارت داخلہ کو موصول فہرست میں 59 دہشت گردوں کی سر کی قیمت ایک سے 3 کروڑ روپے تک مقرر کی گئی ہے جب کہ کرم کے کاظم خان کے سر کی قیمت 3 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح، دہشت گردوں کے کمانڈر امجد اللہ کے سر کی قیمت 2 کروڑ روپے اور باجوڑ کے مولوی فقیر محمد کے سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ مقرر کی گئی ہے، فہرست میں شامل دہشت گردوں کا تعلق پشاور، ڈیرہ اسمٰعیل خان، سوات و دیگر علاقوں سے ہے۔ واضح رہے کہ 15 ستمبر 2025 کو خیبرپختونخوا میں ایک ہزار 351 خطرنک اور انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا جن کے سروں کی قیمت مجموعی طور پر 4 ارب 14 کروڑ 10 لاکھ روپے مقرر کردی گئی تھی۔ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبرپختونخوا نے ایک ہزار 351 خطرناک اور انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست محکمہ داخلہ کو ارسال کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انتہائی مطلوب دہشت گردوں دہشت گردوں کی کے سر کی قیمت فہرست میں گئی ہے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘