Express News:
2026-07-24@12:20:56 GMT

سندھ میں پیپلز پارٹی کا متبادل حریف

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

سندھ میں 17 سالوں سے برسر اقتدار پیپلز پارٹی 2008 سے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی آ رہی ہے کہ پیپلز پارٹی نے جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف، مسلم لیگ (ق) کے طویل اقتداری دور کے بعد 2008 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہمدردی کا ووٹ حاصل کیا تھا اور پیپلز پارٹی کی باگ ڈور عملی طور پر آصف علی زرداری کے ہاتھ آ گئی تھی اور وفاق سمیت سندھ و بلوچستان میں پیپلز پارٹی سے الحاق کر کے اے این پی نے اپنا وزیر اعلیٰ منتخب کرایا تھا جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومت بنائی تھی ۔

2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی نے پہلی بار اپنی حکومتوں کی 5 سالہ مدت پوری کی تھی اور صدر زرداری نے ہی اپنی وفاقی حکومت میں 18 ویں ترمیم متفقہ طور پر میاں رضا ربانی کے ذریعے منظورکرائی تھی، جس کے نتیجے میں صوبوں کو بااختیار بنوایا گیا تھا اور صوبوں کے مقابلے میں وفاق مالی طور پرکمزور بلکہ صوبوں کے آگے بے بس ہوگیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی وفاقی اور سندھ حکومتوں میں سندھ کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے کھل کر نوازا اور فنڈز بھی دل کھول کر خرچ کیے تھے۔ صدر آصف زرداری جنھیں مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا تھا، انھوں نے پی پی کے اندرون سندھ مخالفین کو پیپلز پارٹی میں شامل کرنا شروع کرایا جس سے پیپلز پارٹی مضبوط ہوتی گئی۔

2013 میں میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انھوں نے سندھ اور کے پی حکومتوں سے مزاحمت نہیں کی کیونکہ ویسے بھی 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق صوبوں پر حاوی نہیں رہا تھا اور صوبوں کو خود مختاری مل چکی تھی جس کی وجہ سے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی پالیسی مفاہمانہ کرنا پڑی تھی۔ 2014 میں (ن) لیگ کے خلاف پی ٹی آئی نے جو لانگ مارچ کیا اور اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا تھا اور نواز شریف حکومت ختم کرانے کی کوشش کی جس پر پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کا مکمل ساتھ دیا تھا جس سے دونوں پارٹیوں کے تعلقات میں کافی بہتری آئی تھی ویسے بھی مشرف دور میں لندن میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت ہو چکا تھا۔

2013 کے انتخابات میں سندھ سے مسلم لیگ (ن) کو کچھ نشستیں ملی تھیں مگر نواز شریف نے سندھ پر توجہ نہیں دی بلکہ اپنے ارکان اسمبلی کو نظرانداز کیا اور وہ مایوس ہو کر (ن) لیگ کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونا شروع کیا مگر نواز شریف نے فکر نہیں کی، اس طرح سندھ سے مسلم لیگ (ن) کا صفایا ہوتا گیا جس کے ذمے دار خود وزیر اعظم نواز شریف تھے جو سندھ سے اپنی پارٹی کا خاتمہ ہوتے دیکھتے رہے جس کے نتیجے میں 2018 میں سندھ سے مسلم لیگ (ن) ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی تھی۔ 2018 میں (ن) لیگ کے سارے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے تھے۔

2024 کے انتخابات سے پیر صاحب پگاڑا بھی فوت ہو چکے تھے اور ان کے جانشین میں وہ سیاسی صلاحیت نہیں تھی کہ فنکشنل لیگ کو متحد رکھ سکتے، ان کے رہنما بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوتے رہے۔ سندھ کے کئی اضلاع سے فنکشنل لیگ بھی ختم ہوتی گئی تھی اور سندھ مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے زیر اثر آ گیا۔ پی پی میں آنے والوں کو پیپلز پارٹی میں نوازا بھی گیا۔

2024 کے انتخابات سے قبل جی ڈی اے بنایا گیا جس کو سندھ میں اہمیت نہ ملی تو پی پی مخالفین نے جے یو آئی میں شامل ہونا شروع کردیا اور سندھ کے پی پی مخالف سیاستدانوں نے پہلی بار جے یو آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا، مگر کامیاب نہ ہو سکے اور بالاتر بھی جے یو آئی پر مہربان نہیں تھے۔

جے یو آئی اندرون سندھ پانچ دہائیوں سے اہم سیاسی قوت رہی ہے اور ہر الیکشن میں حصہ لیتی رہی ہے اور اندرون سندھ اس کے لاکھوں کارکن بھی موجود ہیں اور 2024 سے اس کے پاس بااثر امیدوار بھی آ گئے اور اب جے یو آئی سندھ میں پیپلز پارٹی سے مقابلے کے لیے اہم سیاسی حریف بن کر ابھری ہے، کیونکہ مولانا سندھ پر توجہ بھی دے رہے ہیں۔ اندرون سندھ میں کوئی اور پی پی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور جی ڈی اے بھی مسلسل ناکام رہی ہے، اس لیے مستقبل میں جے یو آئی ہی پیپلز پارٹی کی اہم حریف بن کر پی پی کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی میں میں شامل ہو نواز شریف جے یو آئی مسلم لیگ تھا اور رہی ہے

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار