نومبر اور دسمبر کے مہینے نہایت اہم ثابت ہوں گے، منظور حسین وسان
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
سینئر رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ صدر کے وہی اختیارات ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، کسی کی خواہش ہوسکتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں، سب قیاس آرائیاں ہیں، پارلیمنٹ کے مفاد کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما منظور حسین وسان نے کہا ہے کہ نومبر اور دسمبر کے مہینے نہایت اہم ثابت ہوں گے، ان دو مہینوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا واقعہ ہو۔ تفصیلات کے مطابق سیاسی پیشگوئیوں کے حوالے سے شہرت رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان کی نئی پیشگوئیاں سامنے آگئیں۔ منظور حسین وسان نے کہا نے کہا کہ صرف فضول باتیں ہو رہی ہیں، صدر کے اختیارات میں کوئی ترمیم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے وہی اختیارات ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، کسی کی خواہش ہوسکتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں، سب قیاس آرائیاں ہیں، پارلیمنٹ کے مفاد کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔
نظور حسین وسان نے کہا کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے اور نومبر اور دسمبر کے مہینے نہایت اہم ثابت ہوں گے، ان دو مہینوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا واقعہ۔ واضح رہے کہ منظور وسان جو سیاسی خواب اور پیشگوئیوں کے حوالے سے مشہور ہیں اور آئے دن کچھ نہ کچھ سیاسی حوالے سے پیشگوئی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی اکثر سیاسی پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سردیوں کے بعد 2025ء کی گرمیاں بھی جیل میں گزارنے کی جو پیشگوئی کی تھی، وہ درست ثابت ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔