قومی اسمبلی میں محمود خا ن اچکزئی نے 27ویں آئینی ترمیم کی کاپی پھاڑدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بِل کی کاپی پھاڑ دی۔
بدھ کے روز قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے دوران اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی اظہارِ خیال کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے احتجاجاً بل کی کاپی پھاڑ دی۔اور کہا کہ یہ حکومت فارم 47 پر قائم کی گئی ہے، ایسی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر ایاز صادق اور محمود اچکزئی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جبکہ اپوزیشن نے حکومتی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کر دی۔ انہوں نے محمود اچکزئی سے مخاطب ہوئے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم اور حکومت نے آپ کو کئی مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی ہے، میں ایک بار پھر مذاکرات کروانے کے لیے تیار ہوں۔
اسپیکر ایاز صادق نے مزید کہا کہ لڑائی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔
محمود اچکزئی کا کہ نا تھا کہ ’آپ لوگ عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں۔‘ جس پر اسپیکر ایاز صادق نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے آپ کے لیڈر کو دو مرتبہ شکست دی ہے اور میرے خلاف کوئی انتخابی پٹیشن نہیں ہے۔ آپ مذاکرات نہ کرنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی ایاز صادق کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔