27 ویں ترمیم عدالتوں پر تالا لگانے کے مترادف ہے،عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-2-16
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رہنما ماہ نور ملاح، حسنہ راہوجو اور ممتاز کھوسو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم عدالتوں پر تالا لگانے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ سپریم نہیں رہے گی بلکہ ایک مخصوص طبقے کی عدالت بن کر رہ جائے گی۔ رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی 27ویں آئینی ترمیم کے لیے جلدبازی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت تمام انتظامی امور چھوڑ کر صرف ترمیم منظور کرانے میں مصروف ہے۔سینیٹ میں محض ڈیڑھ گھنٹے کے اندر پوری ترمیم کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹرز نے ترمیم پڑھے بغیر ہی منظور کر لی ہے۔ انتخابات میں دھاندلیوں کے ذریعے پارلیمان کو تو پہلے ہی ربڑ اسٹیمپ بنایا جا چکا تھا، اب عدالتیں بھی ربڑ اسٹیمپ بن جائیں گی۔رہنماؤں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آئین صرف ایک کاغذ رہ گیا ہے، باقی تمام اختیارات ایک مخصوص طبقے کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ حکمران چاہے جتنی بھی کرپشن کریں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات احتساب سے استثنا دینا بادشاہت سے بھی زیادہ خطرناک نظام ہے، جہاں بادشاہوں کا کوئی احتساب نہیں ہوتا اور وہ عوام کو غلام بنا کر ساری زندگی حکمرانی کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: 27ویں آئینی ترمیم کے کہ 27ویں آئینی ترمیم نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک