27ویں آئینی ترمیم آج منظور ہونے کا قوی امکان، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کو ترمیم کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے اور ایوان میں رائے شماری کے دوران یہ بل آسانی سے منظور ہو جائے گا
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آج 27ویں آئینی ترمیم ایوان میں پیش کی گئی تو وہ ضرور منظور ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے 27ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کونسے ہیں؟
عطاء تارڑ نے کہا کہ حکومت کو ترمیم کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے اور ایوان میں رائے شماری کے دوران یہ بل آسانی سے منظور ہو جائے گا۔
وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا ’کاش! اپوزیشن اس آئینی ترمیم پر سیر حاصل گفتگو کرتی اور شق وار بحث میں حصہ لیتی۔ بل پڑھے بغیر شور و غل مچانے اور بیانیہ بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘
’یہ پراکسی وار ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ‘وفاقی وزیرِ اطلاعات نے وانا میں پاک فوج کے کامیاب آپریشن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج نے 500 سے زائد طلبہ کو بازیاب کرایا جو دہشتگردوں کے قبضے میں تھے۔
عطاء تارڑ نے کہا ’وانا میں طلبہ کو ریسکیو کرنے کے لیے یہ ایک تاریخی آپریشن تھا، جس پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ دنیا اس آپریشن کو یاد رکھے گی، اور یہ کارنامہ دنیا کی ملٹری اکیڈمیوں میں پڑھایا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کو یہ پیغام جان لینا چاہیے کہ پاکستان نے اپنے سے 4 گنا بڑے دشمن کو شکست دی ہے۔ دشمن مورچے چھوڑ کر بھاگ گیا، یہ پراکسی وار ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
نواز شریف کی آمد سے متعلق سوال پر دلچسپ جوابایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف آج پارلیمنٹ ہاؤس آرہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیے نواز شریف آج 27ویں ترمیم میں ووٹ ڈالنے آئیں گے، خواجہ آصف کی تصدیق
جس پر عطاء تارڑ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’آپ کی بھی ملاقات کرائیں گے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عطاء تارڑ نے وفاقی وزیر کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔