ای چالان کے خلاف فریقین سے 25 نومبر تک جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کے خلاف مرکزی مسلم لیگ کی درخواست کی سماعت، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر کو جواب طلب کرلیا۔ سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کے خلاف مرکزی مسلم لیگ کی درخواست کی سماعت ہوئی جہاں عدالت نے اس درخواست کو بھی چالانز سے متعلق دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔ مرکزی مسلم لیگ کی درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ، سندھ حکومت، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک پولیس، نادرا‘ ایکسائزو دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کراچی کا پورا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، شہر بھر میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں،شہر میں سہولت کوئی نہیں ، لیکن شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جارہے ہیں ،چالان کی آڑ میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دینا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ایک ہی ملک میں دو قانون کیسے قابل قبول ہوسکتے ہیں؟ لاہور میں چالان کا جرمانہ 200 روپے جبکہ کراچی والوں کے لیے 5000 روپے کیوں؟ کراچی کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔سندھ حکومت نے ای چالان سسٹم کو عوام سے پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بنایا ہے، شہر کی سڑکوں، ٹریفک انتظامات اور شہری سہولیات کی حالت ناقابل بیان ہے، عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ غیر منصفانہ اور امتیازی جرمانے غیر قانونی قرار دئیے جائیں ،حکومت اور مختلف اداروں کو شہر کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کیلیے کام کرنے کی ہدایت کی جائے ،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں بات چیت کرتے ہوئے کہناتھا کہ کراچی تین کروڑ کی آبادی والا شہر ہے، یہاں اسٹریٹ کرائم عروج پر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرکزی مسلم لیگ کی
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔