پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کےلئے روس نے ثالثی کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیےروس نے ثالثی کی پیشکش کر دی۔
میڈیاذرائع کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام ہماری ترجیح ہے، پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی نہ صرف روس بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
ذرائع کے مطابق ماریہ زخارووا نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، سرحدی کشیدگی خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، مذاکرات ہی مسئلے کا پائیدار حل ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں اہم شراکت دار ہیں، ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی مگر استنبول میں مذاکرات کے دو ادوار میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔
ترک صدر نے آذربائیجان میں اعلان کیا تھا کہ وہ پاک افغان کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان بھیجیں گے۔ جبکہ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستانی ہم منصب سے کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان ثالثی کی پیشکش
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.