الیکشن کمیشن کا اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے محفوظ فیصلہ جاری کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد کی مقامی حکومتوں کے قانون کی سیکشن15 میں ترمیم آئین کے مطابق نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ کے مطابق اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے افسران کا تعین کرے۔
ای سی پی کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کمیشن سرکاری افسران، عدلیہ یا سرکاری ادارے سے ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر او تعینات کرسکتا ہے۔
اس میں کہا گیا کہ سیکرٹری یونین کونسل مقامی حکومتوں کے الیکشن کرانے کی ذمے داری نہیں نبھا سکتا، مخصوص نشستوں کے انتخابات الیکشن کمیشن کے نامزد کردہ افسران ہی کرائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں جلد بلدیاتی الیکشن کروانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ای سی پی کا اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کا کیس 13 نومبر کو سننے کا فیصلہ الیکشن کمیشن، نئی قانون سازی کی وجہ سے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہای سی پی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اسلام آباد میں لوکل باڈیز الیکشن کے لیے سیکریٹری یونین کونسل تعینات کرنے کا پابند نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ ہے، مقامی حکومتوں کے انتخابات اس کی ذمہ داری ہے، کمیشن مقامی حکومت کی معیاد مکمل ہونے کے 120 دن کے اندر الیکشن کرانے کا پابند ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں مقا می حکومت کی معیاد 14 فروری 2021ء کو مکمل ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں کے اسلام ا باد میں الیکشن کمیشن کے انتخابات کہا گیا کہ فیصلے میں کا فیصلہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔