آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے بھی منظور,حکومت کو دو تہائی حمایت حاصل،4ممبران کی مخالفت،پی ٹی آئی کا بائیکاٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے بھی منظور,حکومت کو دو تہائی حمایت حاصل،4ممبران کی مخالفت،پی ٹی آئی کا بائیکاٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 November, 2025 سب نیوز
قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیمی بل کی اضافی ترامیم کے ساتھ شق وار منظوری دے دی، 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں،ترمیم کی حمایت میں 233 ووٹ جبکہ مخالفت میں صرف 4 ووٹ آئے
قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا،27 ویں آئینی ترمیم بل میں بغاوت سے متعلق آرٹیکل 6 میں ترمیم کا امکان ، آئین کے آرٹیکل 6 کی شق 2 اے میں ترمیم کی جائے گی،پی ٹی آئی کی ہنگامہ آرائی،بل کی کاپیاں پھاڑ دیں
اسلام آباد (آئی پی ایس )قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیمی بل کی اضافی ترامیم کے ساتھ شق وار منظوری دے دی۔رپورٹ کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں، وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے 6اضافی ترامیم پیش کیں، اس کے ساتھ قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے 59 ترامیم کی منظوری دی۔قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔27 ویں آئینی ترمیم بل میں بغاوت سے متعلق آرٹیکل 6 میں ترمیم کا امکان ہے،
آئین کے آرٹیکل 6 کی شق 2 اے میں ترمیم کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کا نام بھی شامل کیا جائے گا، بغاوت کے کسی ایسے عمل کو جو ذیلی شک 2 یا 1 میں مذکور ہو کسی عدالت بشمول وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے توثیق نہیں دی جائے گی۔سینیٹ اجلاس کا شیڈول بھی تبدیل کردیا گیا، اجلاس ایک روز قبل طلب کرلیا گیا، سینیٹ اجلاس آج شام پانچ بجے بلا لیا گیا۔حکومتی ذرائع نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم لائے جانے کی تصدیق کر دی، اپوزیشن کی گیارہ ترامیم بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے میں پی ٹی آئی کے منحرف سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے استعفے پر کاروائی روک دی گئی۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے استعفے پرچیئرمین سینیٹ نے دستخط نہیں کیے، آرٹیکل 63اے کے تحت ریفرنس بھی نہیں بھجوایا جا سکا۔پی ٹی آئی منحرف رکن سیف اللہ ابڑو نے پارلیمان میں استعفی دیدیا تھا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تاڑ نے ملاقات کی، ملاقات میں نوید قمر، شیری رحمان، مرتضی وہاب اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔ملاقات کے بعد صحافی نے سوال کیا کہ ایک آدمی کو نوازنے سے متعلق ترمیم ہو رہی ہے، بلاول بھٹو نے جواب دیا کہ میں تقریر میں بات کروونگا۔سوال کیا گیا کہ 27 ویں ترمیم پر پاکستان پیپلزپارٹی پر بہت تنقید ہق رہی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی پر ہمیشہ ہی تنقید ہوتی ہے۔اعظم ندیر تارڑ نے بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 27 ویں ترمیم سے متعلق دو تین اچھی تجاویز پر بات چیت جاری ہے، آج27 ویں ترمیم پر ووٹنگ ہوگی۔سینیٹ سے منظور شدہ ترمیم میں کچھ تبدیلی ہوئی تو اس تبدیلی کی حد تک سینیٹ سے منظوری ہوگی۔وزیر قانون نے کہا کہ اگر کسی پر ابہام ہو تو ان پر بحث کرنا مناسب ہے، قومی اسمبلی میں ابہام سے متعلق بحث کرلیں گے۔
سوال کیا گیا کہ آپ کا موقف تھا کہ ججز آئین کو دوبارہ تحریر کر رہے ہیں، اسپر انہوں نے جواب دیا کہ آرٹیکل 239 میں آئین بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے، آئینی عدالت کو آئین ری رائٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔وزیر قانون سے ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے قانونی ٹیم سے مشاورت کی، مشاورتی اجلاس میں شیری رحمان ،فاروق ایچ نائیک شریک تھے۔اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کی آج منظوری کا امکان ہے جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت وفاقی آئینی عدالت کے جلد قیام کی خواہاں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفتح جنگ: دہی میں مردہ مکھیاں اور فریزر میں بدبودار گوشت برآمد خورشید شاہ 27 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے کیلئے وھیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچ گئے طالبان رجیم کا تاجروں کو پاکستان کیساتھ3ماہ میں تجارت ختم کرنے کا حکم آئینی ترمیم جمہوریت کی تکمیل،کسی کا باپ بھی ختم نہیں کر سکتا،بلاول بھٹو ایف بی آر میں بھونچال، 80 سینئر عہدیداروں کے یکا یک ملک گیر تقرر و تبادلے پاک سعودی اقتصادی تعاون کیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت حملہ آور جوڈیشل کمپلیکس تک کیسے پہنچا پولیس نے تحقیقات میں سراغ لگا لیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔