بھارت کا آئی سی سی میٹنگز کو بھی متنازع بنانے کا پلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
بھارت نے آئی سی سی میٹنگز کو بھی متنازع بنانے کا پلان بنالیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے متعصبانہ رویے سے پورے ایشیا کپ کو متنازع بنائے رکھا۔
بھارتی ٹیم نے ایونٹ کے آخر میں ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے بھی انکار کردیا۔
بعد ازاں بھارتی ٹیم نے خط لکھ کر ٹرافی مانگی تو محسن نقوی نے دو ٹوک موقف اپنایا کہ اپنے کپتان کو بھیجیں، ایک تقریب رکھتے ہیں، اس میں ٹرافی دے دیں گے مگر بی سی سی آئی اس پر راضی نہ ہوا۔
اب بی سی سی آئی یہ معاملہ 4 سے 7 نومبر تک دبئی میں شیڈول آئی سی سی میٹنگز میں بھی اٹھانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی اس معاملے کو آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں اٹھاسکتا ہے۔
اسی رپورٹ میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آئی سی سی میٹنگ میں شرکت کے حوالے سے بھی غیر یقینی ظاہر کی گئی ہےکیونکہ وہ اس سے قبل سالانہ اجلاس میں بھی نہیں آئے تھے۔
آئی سی سی میٹنگز کے آغاز پر پہلے چیف ایگزیکٹیوز کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں موبائل گیمنگ میں کھلاڑیوں کے امیج رائٹس پر بات ہوگی۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن موبائل گیمنگ میں پلیئرز کی بغیر اجازت تصاویر استعمال کرنے کی مخالفت کرچکی تاہم آئی سی سی اس معاملے کو پلیئرز کے بجائے متعلقہ بورڈز کے ساتھ طے کرنا چاہتا ہے۔
اس میں بڑا مسئلہ ریٹائرڈ یا ان پلیئرز کا ہے جو اپنے بورڈ کے ساتھ معاہدہ نہیں رکھتے۔
اسی طرح انڈر 19 ورلڈکپ کے فارمیٹ سے متعلق بھی بات ہوگی، جونیئر ورلڈ کپ کا اگلا ایڈیشن آئندہ برس زمبابوے اور نمیبیا میں 50 اوورز فارمیٹ میں کھیلا جائے گا۔
16 ٹیموں کے اس ایونٹ میں 4 ایسوسی ایٹس ٹیمیں جاپان، تنزانیہ، امریکا اور اسکاٹ لینڈ جگہ بنا چکی ہیں۔
فل ممبرز چاہتے ہیں کہ ٹورنامنٹ بدستور ون ڈے فارمیٹ میں کھیلا جائے تاہم ایسوسی ایٹ ٹیمیں اس کے ٹی ٹوئنٹی طرز میں انعقاد کا مطالبہ کررہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ئی سی سی میٹنگز
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔