عطاء اللہ تارڑ کی سندھ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سندھ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کامران رضی کو صدر، حمید سومرو کو نائب صدر، اکرم بلوچ کو جنرل سیکریٹری اور دیگر نومنتخب عہدیداران کو نیک تمناؤں کے ساتھ مبارکباد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافی برادری جمہوری اقدار کے فروغ میں اہم اور مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سندھ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی نئی قیادت اپنے پیشہ ورانہ فرائض دیانتداری، ذمہ داری اور غیر جانبداری کے ساتھ انجام دیتی رہے گی۔
عطاء اللہ تارڑ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وزارت اطلاعات صحافتی اداروں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھتے ہوئے ذمہ دار اور تعمیری صحافت کے فروغ کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔