مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں تجارتی خسارے میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے چار ماہ(جولائی تا اکتوبر) میں تجارتی خسارے میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تجارتی خسارہ 3 ارب 46 کروڑ 70 لاکھ ڈالر بڑھ گیا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا اکتوبر تجارتی خسارے کا حجم 12 ارب 58 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں تجارتی خسارہ 9 ارب 11 کروڑ ڈالر تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی چار ماہ میں ملکی برآمدات میں چار فیصد سے زائد کمی آئی ہے، جولائی تا اکتوبر برآمدات کا حجم 10 ارب 44 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا۔
اس دوران غیر ملکی درآمدات 15.
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں برآمدات 2.49 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.84 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں 4.21 فیصد کمی، حجم 3.20 ارب ڈالر رہا۔
مزید بتایا گیا کہ ستمبر کے مقابلے اکتوبر میں درآمدات 3.57 فیصد اضافے سے 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، اکتوبر 2024کے مقابلے میں گزشتہ ماہ برآمدات میں 4.46 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تجارتی خسارے میں تجارتی کے مقابلے برا مدات ارب ڈالر ڈالر سے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔