ترکیہ نے نیتن یاہو سمیت 37 اسرائیلی عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
انقرہ: ترکیہ نے فلسطینی عوام پر جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف تاریخ ساز اقدام اٹھاتے ہوئے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیر دفاع یوآف گیلنٹ، نیشنل سیکورٹی کے وزیر ایتمار بین گوویر اور دیگر سینتیس اعلیٰ اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدام استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان افراد نے غزہ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق پراسیکیوٹر کے دفتر سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور فوج نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں وحشیانہ بمباری کے ذریعے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو شہید کیا، جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ بیان میں 6 سالہ بچی ہند رجب کی شہادت کا خصوصی ذکر کیا گیا، جسے اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر شہری انفرا اسٹرکچر کو بھی منظم طور پر تباہ کیا۔
ترک استغاثہ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ اسرائیل نے 2010 میں ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ پر حملہ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی، جو غزہ کے محصور عوام تک امداد پہنچانے کی ایک انسانی کوشش تھی۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اسرائیل کے ان اقدامات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف فلسطینیوں بلکہ بین الاقوامی انسانی ضابطوں کے بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یہ وارنٹ گرفتاری ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب عالمی عدالت انصاف کے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ ترکیہ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر زور دیا کہ اسرائیلی قیادت کو بین الاقوامی انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ فلسطین میں جاری ظلم و بربریت کا خاتمہ ممکن ہو۔
واضح رہے کہ ترکیہ گزشتہ ایک سال سے اسرائیل کے خلاف سب سے مؤثر اور جرات مندانہ آواز کے طور پر ابھرا ہے۔ ترک حکومت نے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات اور سفارتی روابط منقطع کیے بلکہ عالمی سطح پر فلسطین کے حق میں مسلسل مہم جاری رکھی ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ ترکیہ کے اس غیر متزلزل مؤقف کا تسلسل ہے کہ دنیا کو غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اسرائیل کے کے خلاف کیا گیا
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے