سندھ بلڈنگ، اسکیم 33 میں غیرقانونی تعمیرات کا بے لگام سلسلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اویس شاہ نے حفاظت کا ذمہ اٹھالیا،عوام کی شکایات نظرانداز
علاقہ مکینوں کا غیرقانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ ، حکام خاموش
اسکیم 33میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بدعنوان افسران کی ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات کا بے لگام سلسلہ زور و شور سے جاری ہے ،سابقہ بلڈنگ افسران کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بدنام زمانہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اویس حسین شاہ المعروف شاہ جی نے خلاف ضابطہ جاری تعمیرات کی حفاظت کا ذمہ اٹھا لیا ہے ،ذاتی مفادات کے حصول کیلئے شہریوں کی زندگیوں کو مشکل بنانے کا عمل جاری ہے ،قانونی تقاضوں کو یکسر نظرانداز کرکے کھڑی کی جانے والی عمارتیں، شہریوں کو بنیادی سہولیات سے محروم کرنے لگی ہیں ۔جرآت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ’’یہ غیرقانونی عمارتیں دن کے اجالوں میں کھڑی کی جا رہی ہیں،مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے ‘‘حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں موجود بدعنوان عناصر نے اس غیرقانونی سرگرمیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے ۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اہلکار کا کہنا ہے کہ’’ افسران کی ملی بھگت سے مافیا نے پورے علاقے کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے ‘‘۔علاقے کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکیم 33 میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور تمام غیرقانونی عمارتوں کو مسمار کیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جلد کارروائی نہ ہوئی تو وہ اعلیٰ حکام تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے احتجاجی مظاہرے کریں گے ۔اس معاملے پر ڈی جی مزمل حسین ہالیپوٹو سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا ، محکمہ ٹاؤن پلاننگ کے ایک عہدیدار نے صرف یہ کہا کہ "معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔”شہریوں کا کہنا ہے کہ محض تحقیقات کے دعوے کافی نہیں ہیں، عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ شہر کے اس اہم رہائشی علاقے کو غیرقانونی تعمیرات کے عفریت سے بچایا جا سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیرقانونی تعمیرات کا کہنا ہے کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔