NLFکے56واں یوم تاسیس پر تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے 56ویں یومِ تاسیس کے موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی نے کی۔ اس موقع پر فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل حسیب الرحمن، طیب اعجاز خان، محمد امین منہاس، ملک محمد یوسف، سید عبدالعزیز شگری سمیت دیگر ٹریڈ یونین رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں شمس الرحمن سواتی نے پروفیسر شفیع ملک کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن قائدین نے این ایل ایف کو اس مقام تک پہنچایا، ان کی محنت اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کی سب سے بڑی نمائندہ فیڈریشن بن چکی ہے۔ نامساعد حالات، تعصبات، منفی پروپیگنڈے اور رکاوٹوں کے باوجود، اللہ کے فضل و کرم سے فیڈریشن نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کے مزدوروں کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایل ایف پہلی بار وفاقی سہ فریقی مشاورتی کمیٹی میں مؤثر کردار کے ساتھ موجود ہے، اور یہ ایک منفرد مثال ہے کہ سب سے بڑی نمائندہ فیڈریشن نے اس فورم پر تمام بڑی فیڈریشنوں کو اپنے ساتھ اس نمائندگی میں شامل کیا۔
شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ اس وقت جبکہ مزدور ملک کی آبادی کا تقریباً تیسرا حصہ ہیں اور ان کی تعداد ساڑھے 8 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، وہ شدید مسائل کا شکار ہیں۔ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری عام ہوچکی ہے۔ صنعتی و زرعی ترقی جمود کا شکار ہے جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ، اور اس کے سبب غربت و مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونین کا کردار محدود کیا جا رہا ہے، ان کے حقِ نمائندگی کو ختم کیا جا رہا ہے، ٹھیکیداری نظام کے ذریعے مستقل ملازمتوں پر شب خون مارا جا رہا ہے، جبکہ بڑے بڑے ادارے نجکاری کی نذر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کی نجکاری کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ اس عمل سے مزدور اور کسان طبقے کے لیے تعلیم اور علاج کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، اوقاتِ کار 8 گھنٹے سے بڑھا کر 12 گھنٹے کر دیے گئے ہیں، اور لیبر قوانین میں ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جن کا مقصد ٹریڈ یونینز کا گلا گھونٹنا اور ٹھیکیداری نظام کو تحفظ دینا ہے۔ ان حالات میں ٹریڈ یونین قیادت کی تقسیم افسوسناک ہے، اور اس صورتحال میں این ایل ایف کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن کوشش کرے گی کہ تمام ٹریڈ یونین رہنماؤں کو مشترکہ نکات پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے تاکہ اس فرسودہ، ظالمانہ نظام سے ملک کو نجات دلائی جا سکے۔ اس نظام کی تبدیلی کے بغیر مزدور کی حالت سدھر نہیں سکتی۔ جب تک یہ نظام تبدیل نہیں ہوگا، مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیم، علاج، رہائش اور باعزت زندگی کے دروازے نہیں کھل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ آج این ایل ایف جس مقام پر کھڑی ہے، اس میں ہر سطح کی قیادت، وابستہ ٹریڈ یونینز اور ملک بھر میں پھیلے ہزاروں کارکنان کی محنت شامل ہے۔ ہم انشاء اللہ اللہ کی بندگی اور سنتِ نبوی ؐ کی پیروی کرتے ہوئے اس جدوجہد کو مزید تیز کریں گے، مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کو عدل وانصاف اور خوشحالی سے ہمکنار کریں گے۔
ویب ڈیسک
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل لیبر فیڈریشن انہوں نے کہا کہ ایل ایف ٹریڈ یونین
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔