سیاست میں اگر انتہا پسندی آئے گی تو نہ ملک چلے گا اور نہ نظام، اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ معاملات کا حل گفتگو اور مذاکرات سے ہے، یہ وہ چیز ہے جو ہم نے گزشتہ سالوں میں گنوائی، ہم بحث تمیز کو چھوڑ کر صرف مخالفت کی بات پر قائل ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد میں سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مخالفت کا نقصان ملک اور معاشرے کو ہوتا ہے، سیاست میں اعتدال قوموں کو آگے لے کر جاتا ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیاست میں اگر انتشار اور انتہا پسندی آئے گی پھر نہ ملک آگے چلے گا اور نہ نظام چل پائے گا۔ پھر وہی ہوگا جو اس ملک میں کئی دفعہ ہو چکا ہے۔ پھر سیاست دانوں کی بساط لپیٹی جاتی ہے۔
حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی انتقال کرگئے ہیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دوسروں کو منطق کے ساتھ قائل کرنا عرفان صدیقی کا خاصا تھا۔ سب کو آسان الفاظ میں سمجھانا عرفان صدیقی کو آتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عرفان صدیقی نے گرم سیاسی ماحول میں سرد ہوا کا کردار ادا کیا، وہ ہمارے پارلیمانی لیڈر تھے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ایوان کی کارروائی بھی انہیں چلانی ہوتی تھی تو عرفان صدیقی کا جھکاؤ اپوزیشن کی طرف رہتا تھا، عرفان صدیقی کہتے تھے مائیک اپوزیشن کے پاس رہنا چاہیے ہمیں ان کی بات سننی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ عرفان صدیقی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔