دھرمیندر کی نجی ویڈیو لیک کرنے پر ممبئی کے اسپتال کا اسٹاف ممبر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
معروف اداکار دھرمیندر اور ان کے خاندان کی انتہائی نجی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال کے ایک اسٹاف ممبر کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ ویڈیو اُس وقت سامنے آئی جب 89 سالہ لیجنڈری اداکار کو گزشتہ روز اسپتال سے گھر منتقل کیا گیا، ویڈیو خفیہ طور پر بغیر اجازت ریکارڈ کی گئی تھی جس میں دھرمیندر کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال کے بستر پر لیٹا دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو میں دھرمیندر کے بیٹے سنی دیول اور بوبی دیول ساتھ موجود تھے۔ پوتے کرن اور راج ویر دیول بھی وہاں موجود نظر آئے۔ ویڈیو میں دھرمیندر کی پہلی اہلیہ پرکاش کور بھی شدید افسردہ دکھائی دیں۔
ویڈیو سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل دیا اور اس حرکت پر اسٹاف ممبر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جس اسپتال ملازم نے یہ نجی ویڈیو بنائی اور شیئر کی، اسے اب گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سنی دیول نے گھر کے باہر موجود میڈیا کیمرا مینز کو سخت الفاظ میں ڈانٹا تھا جو ہر لمحہ ریکارڈ کرنے کی کوشش میں تھے۔
اس سے قبل دیول خاندان اُس وقت صدمے سے دوچار ہوا جب بھارتی میڈیا نے دھرمیندر کی وفات کی جھوٹی خبر چلا دی تھی جس پر ان کی بیٹی ایشا دیول اور اہلیہ ہیما مالنی نے سخت ردعمل دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔