جماعت اسلامی عوام کی ترجمان ‘دیگر پارٹیاں وراثت پر چل رہیں:حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
کراچی(نوائے وقت رپورٹ)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک خاندان اور چالیس وڈیروں کانام ہے، افسر شاہی، استحصال اورظلم کے نظام نے عوام کو جکڑاہواہے، تعلیم، معیشت، پارلیمنٹ، عدالت ہر شعبہ تباہ وبرباد کردیا گیا، تمام پارٹیوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کو اپنے ساتھ ملارکھا ، خاندان اور وراثت پر چل رہی ہیں، صرف جماعت اسلامی عوام کی حقیقی نمائندہ اور ترجمان ہے۔21تا 23نومبر مینار پاکستان کا اجتماع عام ’’بدل دو نظام‘‘کی تحریک اور جدوجہد کا نکتہ آغاز ہوگا،جس میں اس گلے سڑے نظام کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے لائحہ عمل کا اعلان کیاجائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع شرقی کے تحت پروفیسر عبدالغفور احمد روڈ گلستان جوہر میں ’’بدل دو نظام عوامی کنونشن‘‘میں کے شرکاء سے خطاب کرتے کیا۔ کنونشن میں کو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹیز پر حکومتی سرپرستی میں قبضوں اور اصل الاٹیز کو ان کی زمینوں سے محرومی کے خلاف اور بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر،منصوبے کی لاگت میں اضافہ و مالی بے ضابطگیوں اور شہریوں،تاجروں اور طلبہ وطالبات کو درپیش مشکلات وپریشانیوں کے حوالے سے قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ