ریڈیو پاکستان حملہ، وزیراعلیٰ خیبر پی کے کا انکوائری کمشن بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
پشاور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے کی تحقیقات کے لیے کمشن قائم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس بات کا اعلان انہوں نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کمشن تمام شواہد، بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، جمع کر کے اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز وضع کیں۔ انہوں نے امن جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن امن ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی تمام قراردادوں پر مکمل عمل کیا جائے گا۔ سب سے اہم قرارداد ’ایکشن اِن ایڈ آف سول پاورز‘ کے خاتمے سے متعلق ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ سود سے پاک خیبر پی کے موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام تر اقدامات اور اصلاحات منتخب نمائندوں کی مشاورت سے کی جائیں گی۔ کابینہ اراکین تمام فیصلے میرٹ اور مکمل شفافیت کو مدنظر رکھ کر کریں۔ تمام قوانین عوامی مفاد میں ہونے چاہئیں، کوئی بھی قانون عوامی مفاد کے منافی ہو تو اسے ختم کیا جائے۔ تمام قوانین کا ازسر نو جائزہ لیا جائے، خامیوں کی نشاندہی کر کے ضروری ترامیم تجویز کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ