غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،پاکستان اور اردن کا اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
شاہ عبداللہ دوم وزیراعظم ہاؤس پہنچے،شہباز شریف نے استقبال کیا، گارڈ آف آنر پیش
ملاقات کے دوران بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ
اردن اور پاکستان نے غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے اور غزہ جنگ بندی پر کام کرنے والے 8 ممالک سے مزید رابطے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے اردن کے شاہ عبداللہ دوم وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں مسلح افواج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔رہنماؤں نے پاکستان اور اردن کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے، علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی فائدہ مند تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے شاہ عبداللہ دوم ابن الحسین کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور اردن کے درمیان پائیدار دوستی کے ثبوت کے طور پر اجاگر کیا۔ شاہ عبداللہ دوم نے غزہ تنازع کے ساتھ ساتھ جنگ کے بعد غزہ میں استحکام اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں اردن کے کردار کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کی تعریف کی۔ ملاقات میں علاقائی سلامتی، امن کے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔فلسطین کے معاملے پر دونوں رہنماؤں نے جنگ کے بعد غزہ کے حوالے سے پاکستان اور اردن کے اصولی مؤقف بشمول غزہ سے فلسطینیوں کی کسی بھی نقل مکانی کے حوالے سے کسی بھی سمجھوتے سے گریز کو تسلیم کیا۔دونوں رہنماؤں نے شرم الشیخ میں دستخط ہوئے غزہ امن معاہدے کے حوالے سے آٹھ عرب اسلامی ممالک، جو امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی پر کام کر رہے ہیں ان کے درمیان روابط مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو پاکستان کے پڑوس بالخصوص افغانستان اور بھارت میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا۔ شاہ عبداللہ دوم نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران گرمجوشی سے مہمان نوازی پر پاکستانی عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ تقریب میں دونوں رہنماؤں نے شرکت کی۔ میڈیا، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیر اعظم نے شاہ عبداللہ اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کے اعزاز میں عشائیے کا بھی اہتمام کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: دونوں رہنماو ں نے پاکستان اور اردن شاہ عبداللہ دوم کے حوالے سے پاکستان کے کے درمیان کے ساتھ اردن کے
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب