گاڑیوں پر ای ٹیگز، ایم ٹیگز لگانا اور شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا کیوں ضروری؟ وزیراطلاعات نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بہت ضروری ہے کہ گاڑیوں پر شناختی نمبرز اور ایم ٹیگ لگے ہوں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں اور پیاروں کی حفاظت اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدام کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ڈیجیٹل پارکنگ اور ایم ٹیگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ
نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران گاڑیوں پر ای ٹیگ اور ایم ٹیگ اور اسلام آباد کے شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ دنیا میں کئی ممالک نے دہشتگردی کو شکست دی ہے۔ کور مسئلہ یہ ہے کہ نان کسٹمز پیڈ گاڑیاں آتی ہیں، اس میں خودکش بمبار آتا ہے، کچہری کے باہر دھماکہ کرتا ہے جس میں 12 شہری شہید ہوتے ہیں، اور ہم اس بحث میں لگے ہوئے ہیں کہ ہمیں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سری لنکا نے دہشتگرد تنظیم ایل ٹی ٹی ای کو شکست دی اور ملک کو دہشتگردی سے پاک کیا۔ ہر چوتھے دن سری لنکا میں خودکش حملہ ہوتا تھا۔ پاکستان میں سیف سٹی کے کیمرے لگے ہوئے ہیں جن میں ہر گاڑی کو چیک کیا جا سکتا ہے کہ کون کہاں جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں گاڑیوں کی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ ہوتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ کہاں جرم سرزد ہوا اور کس سے ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کروائے جانے والا ’سیکیور نیبرہڈ سروے‘ کیا ہے؟ اور یہ کیوں ضروری ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ گاڑیوں پر شناختی نمبرز اور ایم ٹیگ ہو، بلکہ ریڈ ٹیک کے تحت گاڑی کی تفصیلات دینا بھی ضروری ہے۔ آج تک ہمارے ملک میں کوئی بھی لینڈ لارڈ اپنا ڈیٹا جمع نہیں کرواتا، حالانکہ اس کے تحت تھانے میں تفصیلات جمع کروانی ہوتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں اور پیاروں کی حفاظت اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدام کریں۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن ضروری ہے اور اس کے لیے پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن کے پاس اختیار موجود ہے۔ گاڑی رجسٹر کروانا یا جہاں آپ رہ رہے ہیں اسے رجسٹر کروانا کوئی حرج نہیں، یہ اس لیے ضروری ہے کہ دہشتگرد کہیں پناہ گاہ لیتے ہیں، وہاں سے نکلتے ہیں اور باہر جا کر دھماکہ کر دیتے ہیں۔ شہریوں کا ڈیٹا پروٹیکٹ کرنا حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ای ٹیگز ایم ٹیگز پاکستان عطاتارڑ وزیراطلاعات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ای ٹیگز ایم ٹیگز پاکستان عطاتارڑ وزیراطلاعات شہریوں کا ڈیٹا اور ایم ٹیگ گاڑیوں پر نے کہا کہ ضروری ہے ڈیٹا جمع کے لیے
پڑھیں:
ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔
زیرِ زمین عسکری نیٹ ورکقشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زیرِ زمین ’میزائل سٹیز‘ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخآبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذقشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔
ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کا قشم جزیرہ