وزیراعظم اور شاہ اردن کے درمیان ملاقات، علاقائی سلامتی، امن کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم اور شاہ اردن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور اردن کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے, علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی فائدہ مند تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے آج شام وزیراعظم ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ (دوئم) ابن الحسین کا استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور اردن کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے, علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی فائدہ مند تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
وزیراعظم نے شاہ عبداللہ دوئم ابن الحسین کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور اردن کے درمیان پائیدار دوستی کے ثبوت کے طور پر اجاگر کیا۔
عزت مآب شاہ عبداللہ دوئم نے غزہ تنازعہ کے ساتھ ساتھ جنگ کے بعد غزہ میں استحکام اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں اردن کے کردار کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کی تعریف کی۔
ملاقات میں علاقائی سلامتی، امن کے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہء خیال کیا گیا۔
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا
فلسطین کے معاملے پر دونوں رہنماؤں نے جنگ کے بعد غزہ کے حوالے سے پاکستان اور اردن کے اصولی مؤقف بشمول غزہ سے فلسطینیوں کی کسی بھی نقل مکانی کے حوالے سے کسی بھی سمجھوتے سے گریز کو تسلیم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے شرم الشیخ میں دستخط ہوئے غزہ امن معاہدے کے حوالے سے آٹھ عرب اسلامی ممالک، جو امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی پر کام کر رہے ہیں ،کے درمیان روابط مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے اردن کے شاہ عبداللہ دوئم کو پاکستان کے پڑوس بالخصوص افغانستان اور بھارت میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا۔
بھارتی کرکٹر کا خاتون کے خلاف ہراسمنٹ کا مقدمہ
محترم شاہ عبداللہ دوئم نے اپنے دورہء پاکستان کے دوران گرمجوشی سے مہمان نوازی پر پاکستانی عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ تقریب میں دونوں رہنماؤں نے شرکت کی۔ میڈیا، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیر اعظم نے شاہ عبداللہ اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کے اعزاز میں عشائیے کا بھی اہتمام کیا۔
شوکت خانم ہسپتال کا فراڈ سی ای او گرفتار
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان اور اردن کے شاہ عبداللہ دوئم اردن کے درمیان کے حوالے سے کے ساتھ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔