کاٹی میں شاندارنمائش ،پاکستان سے تجارت کے دروازے کھل رہے ہیں ، ایرانی قونصل جنرل
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس ڈیسک) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں قازوین چیمبر آف کامرس ایران کے تعاون سے تین روزہ سنگل کنٹری نمائش کا افتتاح کردیا گیا، جس کا افتتاح ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادے اور پیٹرن ان چیف کاٹی ایس ایم تنویر نے مشترکہ طور پر کیا۔ نمائش میں ایرانی مصنوعات، صنعتی شعبوں میں جدت اور فوڈ و انجینئرنگ سیکٹر سے متعلق اسٹالز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی، جبکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری نے اسے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادے نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش انتہائی مؤثر اور شاندار ہے اور اس کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر ہے جس میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی زرعی اور فوڈ مصنوعات ایران کو ایکسپورٹ ہوتی ہیں جبکہ ایران مختلف صنعتی و انجینئرنگ مصنوعات پاکستان سے درآمد کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں دونوں ملکوں کے کاروباری تعلقات کو نئی سمت دیتی ہیں اور تجارتی حجم میں اضافے کے لیے معاون ثابت ہوتی ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرن ان چیف کاٹی ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس نمائش کا انعقاد اس سلسلے میں مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی حالات میں پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے جو حکومتی پالیسیوں، خصوصاً فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایران کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی موثر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امید ہے کہ ایران مستقبل میں پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار بنے گا۔ ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ افغانستان بارڈر بند ہونے کے بعد پاکستان کے پھل اور سبزیاں بڑی تعداد میں ایران جارہی ہیں جو تجارت کو وسعت دینے کا باعث بن رہا ہے۔کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ کاٹی نے سنگل کنٹری نمائش کا انعقاد کرکے ایک نیا ٹرینڈ متعارف کرایا ہے جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت بارٹر سسٹم کے تحت جاری ہے، تاہم مستقبل میں اس نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ اکرام راجپوت نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے دونوں جانب سے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں کاٹی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صدر کاٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دیگر ممالک کے قونصل جنرلز سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور انہیں کاٹی میں سنگل کنٹری نمائش کے انعقاد کی دعوت دیں گے۔ اکرام راجپوت نے کہا کہ ملک کو ایکسپورٹ بڑھانے کی سخت ضرورت ہے اور کاٹی اس روایت کو مضبوط بناتے ہوئے سنگل کنٹری نمائش کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سنگل کنٹری نمائش انہوں نے کہا کہ کے درمیان نمائش کا ایران کے ہے اور
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔