امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی نرگس محمدی ایران میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی پولیس نے مشہد میں چھاپہ مار کر نوبیل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو گرفتار کر لیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پولیس نے مشہد میں چھاپا مار کر نرگس محمدی کو گرفتار کیا۔
خسرو علیکردی کی برسی کی تقریب میں پولیس نےکارروائی کی اور وہاں موجود متعدد کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔
نرگس محمدی کئی سال سے خواتین کےحقوق اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے مہم چلا رہی تھیں اور وہ طبی وجوہات کی بنا پر عارضی رہائی پر تھیں۔
نرگس محمدی کو 2023 میں نوبل کا امن انعام ملا تھا۔
واضح رہے کہ ايران کی بہائی برادری ایک بڑی مذہبی اقلیت ہے، جن کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ ان کی کمیونٹی کو معاشرے میں کئی معاملات میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
53 سالہ نرگس محمدی ستمبر 2022 ميں تہران ميں زير حراست مہسا امينی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحريک کی اہم آواز ہيں، نرگس کو مجموعی طور پر 13 مرتبہ گرفتار کيا گيا اور 5 مرتبہ سزائے قيد سنائی گئی جن کی مدت 31 سال بنتی ہے، جب کہ ساتھ ہی انھيں 154 کوڑے بھی مارے جانے ہيں۔
پچھلے 20 برسوں کا کچھ وقت انھوں نے آزاد گزارا تو کچھ وقت جيلوں ميں۔ آخری مرتبہ وہ 2021 سے زير حراست ہيں، اور فرانس میں مقیم اپنے بچوں سے ملے ہوئے انھیں 8 سال ہو چکے ہيں۔
نرگس محمدی ایک غیر سرکاری فلاحی ادارے ڈیفینڈرز آف ہیومن رائٹس سینٹر کی نائب سربراہ بھی ہیں جسے 2003 میں نوبیل کا امن انعام جیتنے والی شیریں عباسی چلاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک