عوام سے گھوڑوں کیطرح کام کی توقع، جاپانی وزیراعظم خود کتنے گھنٹے سوتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ روزانہ صرف دو سے چار گھنٹے کی نیند پر گزارہ کرتی ہیں۔
اکتوبر 2025 میں جاپان کی 104ویں وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے ’ورک بیلنس‘ کے تصور کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری آبادی کم ہے، اس لیے ہر نسل کی مشترکہ محنت سے ہی ملک کی تعمیر نو ممکن ہےـ* انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ *کام کرو، گھوڑوں کی طرح کام کرو۔ میں خود بھی کام کے مقابلے میں زندگی اور آرام کو پسِ پشت ڈال دوں گی—صرف کام، کام اور مزید کام۔
وزیراعظم بننے کے فوراً بعد انہوں نے صبح 9 بجے ہونے والی بجٹ میٹنگ کا وقت بدل کر رات 3 بجے مقرر کر دیا تھا، جس سے ان کے اسٹاف میں خاصی بے چینی پیدا ہوئی۔
حالیہ پارلیمانی کمیٹی میں گفتگو کے دوران سانائے تاکائیچی نے بتایا کہ میں انتہائی کم نیند پر زندگی گزارنے کی عادی ہوں، عموماً دو گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے سوتی ہوں۔ شاید یہ میری جلد کے لیے بہتر نہیں، لیکن میں اسی معمول کی عادی ہوں۔
مزید یہ کہ جب ان سے حکومتی منصوبوں کے تحت اوور ٹائم کی حد بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مزدوروں اور مالکان کے تقاضے ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ کچھ افراد معاشی حالات کے باعث دو نوکریاں کرتے ہیں، جبکہ کچھ ادارے اوور ٹائم پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔