عدالت بھارتی فلم ’’ایک دن کا سی ایم‘‘ کی طرح مسائل حل کرائیں‘وکیل کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے وکیل نے درخواست کی کہ عدالت بھارتی فلم ’’ایک دن کا سی ایم‘‘ کی طرح جوڈیشل پاور کا استعمال کرکیمسائل حل کراوئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جب کہ دوران سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ میں نے بھی بھارتی فلم ’ایک دن کا سی ایم‘ دیکھی تھی، وہ جو سب کو معطل کرتا رہتا ہے۔ سیشن جج سے متعلق عدالت عظمیٰ کی 2004ء کی آبزرویشن کی روشنی میں درخواست گزار کے دلائل مکمل ہوگئے۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے کہا کہ آپ کو سن لیا ہے ، اس پر آرڈر پاس کریں گے ، کیوں نہ معاملہ ہائی کورٹ کی انسپکشن ٹیم کو بھجوا دیا جائے‘ سیشن کورٹ کے ججز کا معاملہ انسپکشن ٹیم کو بھجوایا جاتا ہے‘ عدالت عظمیٰ نے تو 2004ء میں آبزرویشن دیں تھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو نوٹیفکیشن آپ چیلنج کر رہے ہیں اس میں بظاہر کوئی غیر قانونی چیز نہیں، جو بات آپ کر رہے ہیں اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے جج کو بحال کردیا تھا، آپ کو بڑے ادب سے سمجھا دیا ہے پھر بھی آپ کو مسئلہ ہے تو لاہور ہائی کورٹ جائیں۔ دوران سماعت بھارتی فلم ’’ایک دن کا سی ایم ‘‘ کا بھی تذکرہ کیا گیا، وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ میں نے ایک بھارتی مووی دیکھی ’’ایک دن کا سی ایم‘‘ اس میں وہ بندہ صحیح پاور استعمال کرتا ہے، عدالت بھی ایسے ہی اپنی جوڈیشل پاور کا خود استعمال کرے اور ان مسائل کو حل کروائے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ جی وہ فلم میں نے بھی دیکھی تھی ، وہ جو سب کو معطل کرتا رہتا ہے، آپ رستوں کی بندش کی پٹیشن دائر کریں ہم اس کو الگ سے دیکھ لیں گے۔عدالت نے وکیل درخواست گزار کے دلائل کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایک دن کا سی ایم اسلام ا باد بھارتی فلم ہائی کورٹ چیف جسٹس
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔