فیلڈ مارشل کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کرنے کی خبر فیک نیوز، نوٹیفکیشن جعلی نکلا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورس قرار دینے کی خبر فیک نیوز نکلی۔ خبر چلانے والے ٹی وی چینل نے بھی نوٹیفکیشن جعلی ہونے کی تصدیق کردی۔
نجی ٹی وی جیو نیوز نے خبر چلائی تھی کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس پر صدر اور وزیر اعظم کے دستخط ہیں۔ اس نوٹیفکیشن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا ہے۔
خبر چلنے کے کچھ ہی دیر بعد جیو نیوز نے قرار دیا کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے اور اس کی حکومتی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے۔
جو جج انصاف فراہم نہیں کر سکتے انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، علیمہ خان
دوسری جانب صحافی احمد وڑائچ نے ایکس پر اس جعلی نوٹیفکیشن میں تین غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ احمد وڑائچ کے مطابق :
1:عاصم منیر جنرل نہیں فیلڈ مارشل ہیں۔
2: فیلڈ مارشل کے تمغے غلط لکھے ہیں، ہلال جرات کہاں ہے؟
3: وزارت دفاع کے نوٹی فکیشن پر صدر اور وزیراعظم کے دستخط نہیں ہو سکتے۔
اعزاز سید @AzazSyed نے جعلی نوٹی فکیشن پر خبر چلا دی۔ اس نوٹی فکیشن میں کئی غلطیاں ہیں
نمبر 1، عاصم منیر جنرل نہیں فیلڈ مارشل ہیں
نمبر 2، فیلڈ مارشل کے تمغے غلط لکھے ہیں، ہلال جرات کہاں ہے؟
نمبر 3، وزارت دفاع کے نوٹی فکیشن پر صدر اور وزیراعظم کے دستخط نہیں ہو سکتے
اور بھی ہیں https://t.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیف آف ڈیفنس فیلڈ مارشل نوٹی فکیشن
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :