بونڈائی ساحل فائرنگ: حملہ آور باپ بیٹے کی شناخت ہوگئی، 16 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر ہونے والے فائرنگ حملے میں 16 افراد ہلاک جبکہ ایک حملہ آور مارا گیا اور دوسرا شدید زخمی ہو کر زیرِ حراست ہے۔ ہلاک شدگان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں۔
???????????? BREAKING: Identity of #Bondi Beach Attacker Revealed
The attacker has been identified as Naveed Akram, an Afghan national (Refugee).
This heinous act has caused over 13 deaths and left more than 50 injured.#bondibeach pic.twitter.com/qRFHKdPy1z
— Schlangenjäger (@Shadowfox_11) December 14, 2025
مزید پڑھیں: میرا سڈنی فائرنگ واقعے سے تعلق نہیں، بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے پر پاکستانی نوجوان کی وضاحت
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق حملہ آور باپ اور بیٹا تھے۔ مارے جانے والا باپ 50 سالہ ہے جو 1998 میں سٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آیا اور بعد میں پارٹنر ویزا اور ریزیڈنٹ ریٹرن ویزہ حاصل کر چکا تھا۔ زخمی بیٹا آسٹریلیا میں پیدا ہوا۔
TERRORISTS CAPTURED BY POLICE AT BONDI BEACH
RANDOM CIVILIAN PASSED BY AND STOMPED ON SUSPECTS HEAD
MULTIPLE GUN MEN
MULTIPLE PEOPLE SHOT#BondBeach #Shooting pic.twitter.com/6zOzKwNc0H
— SaddamShah (@SaddaM_Shah92) December 14, 2025
آسٹریلوی میڈیا نے حملہ آوروں کے نام ساجد اور نوید اکرم بتائے ہیں۔ وہ سڈنی کے جنوب مغربی علاقے بونی رگ میں رہائش پذیر تھے، جو بونڈائی ساحل سے قریباً ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔
مزید پڑھیں:سڈنی حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب، فائرنگ کرنے والا ملزم افغانی نکلا
Breaking ????
Alerted by the firing of terrorists on the beach, the local police opened fire to kill the terrorists. It is reported that two terrorists were killed in this firing. Two others were detained.#bondibeach #bondi pic.twitter.com/3XvOnnYYju
— ???????????????? ????????????..???? (@RajuPallepaga) December 14, 2025
حملہ آوروں کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ دونوں عام زندگی میں بالکل معمول کے رہائشی تھے، اور حملے کے واقعے نے علاقے میں خوف و حیرت پیدا کر دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بونڈائی ساحل حملہ آور باپ بیٹے کی شناخت سڈنی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بونڈائی ساحل حملہ آور باپ بیٹے کی شناخت بونڈائی ساحل حملہ آور
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر