امریکا جانے والے خواہشمندوں کی سوشل میڈیا اسکریننگ کا عمل آج سے شروع
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ کے نئے حکم کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آج (15 دسمبر) سے تمام ایچ 1 بی ویزا درخواست گزاروں اور ان کے اہلَ خانہ کے ایچ 4 ویزا کے خواہشمندوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرتے ہوئے ان کے سوشل میڈیا پروفائلز کی بھی اسکریننگ شروع کر رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طلبہ اور ایکسچینج وزیٹرز کی آن لائن سرگرمیوں کا پہلے ہی باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اب اس شرط کا دائرہ کار بڑھا کر H-1B اور H-4 ویزا درخواست گزاروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق اس جانچ پڑتال کو آسان بنانے کے لیے H-1B اورH-4 ، F، M اور J نان امیگرنٹ ویزا کے تمام درخواست گزاروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز ’پبلک‘ پر رکھیں۔
واضح رہے کہ F،M اور J ویزے طلبہ اور ایکسچینج وزیٹرز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے زور دیا ہے کہ امریکی ویزا ایک سہولت ہے، حق نہیں، اور ویزا اسکریننگ کے دوران دستیاب تمام معلومات استعمال کی جاتی ہیں تاکہ ایسے درخواست گزاروں کی نشاندہی کی جا سکے جو امریکا کے لیے ناقابلِ قبول ہوں یا قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہر ویزے کا فیصلہ قومی سلامتی سے جڑا ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: درخواست گزاروں کے لیے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔