پی سی بی چیئرمین نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کی ونڈو کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
لاہور:
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سید محسن نقوی نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 11 ویں ایڈیشن کی ونڈو کا اعلان کر دیا ہے۔
ایچ بی ایل پی ایس ایل کا میلہ اگلے برس 26 مارچ سے 3 مئی تک مختلف شہروں میں سجے گا، ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے توسیعی مرحلے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ چھ کی بجائے آٹھ ٹیموں کو میدان میں اتارا جا سکے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ 8 جنوری 2026 کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں نئی ٹیموں کی نیلامی کا انعقاد بھی کرے گا، جہاں ایچ بی ایل پی ایس ایل کی دو نئی فرنچائزز کے حقوق پیش کیے جائیں گے۔ اس نیلامی کو براہِ راست نشر کیا جائے گا، جس سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور دنیا بھر کے ممکنہ سرمایہ کاروں اور کرکٹ شائقین کو عالمی سطح پر رسائی حاصل ہوگی۔
یاد رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل مسلسل بین الاقوامی دلچسپی حاصل کر رہی ہے، جو لیگ کی بڑھتی ہوئی تجارتی قوت، عالمی سطح پر پھیلتے ہوئے اثر و رسوخ اور طویل مدتی ترقی کے امکانات کی عکاسی ہے۔ عالمی شراکت داروں کے ساتھ حالیہ روابط نے لیگ کے کاروباری ماڈل پر اعتماد میں اضافہ کیا یے اور دنیا کی صفِ اول کی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں اس کے سٹینڈنگ کی تصدیق کی ہے۔
اعلیٰ معیار کی کرکٹ، مسابقتی توازن اور عالمی سطح کے باصلاحیت کھلاڑیوں کی تیاری میں کردار کے باعث،ایچ بی ایل پی ایس ایل نے خود کو ایک ممتاز عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے طور پر مستحکم طور پر منوا لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایچ بی ایل پی ایس ایل
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔