فضا علی کی عروسی لباس سے متعلق صبا فیصل کے بیان پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
اداکارہ فضا علی نے بہوؤں کے حقوق کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے ذاتی انتخاب کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور عروسی لباس سے متعلق اداکارہ صبا فیصل کے بیان پر تنقید کی ہے۔
فضا علی کا کہنا تھا کہ دلہن کا عروسی لباس محض کپڑا نہیں بلکہ اس کے خوابوں، خواہشات اور جذبات کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے دلہن کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے لباس کا انتخاب کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایک پُرسکون گھر وہ ہوتا ہے جہاں بہو خود کو باعزت اور مطمئن محسوس کرے، نہ کہ صرف خاموش یا تابع دار ہو۔
View this post on InstagramA post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی عورت اپنی پسند کے مطابق لباس پہننا چاہتی ہے تو اسے بدتمیزی یا بے ادبی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک فطری خواہش ہے، ساس کی رائے کی اہمیت اپنی جگہ، مگر بہو سے اس کے فیصلوں کا حق چھین لینا محبت نہیں بلکہ کنٹرول کے مترادف ہے۔
فضا علی نے معاشرتی رویوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اکثر لڑکی کی خوشی کو اس وقت اہمیت دی جاتی ہے جب وہ بیٹی ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی وہ بہو بنتی ہے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات دبا لے اور خاموش رہے، صحت مند رشتے جبر پر نہیں بلکہ باہمی احترام پر قائم ہوتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ ساس اور بہو کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ گھر کا سکون سمجھ بوجھ سے آتا ہے، نہ کہ بالادستی سے، خاموشی بظاہر وقتی طور پر امن قائم رکھ سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، عورتوں کو اکثر یہ سکھایا جاتا ہے کہ بولنے سے گھر ٹوٹ جاتا ہے اور خاموش رہنے سے سب ٹھیک رہتا ہے، حالانکہ یہ خاموشی مستقل خوشی کی ضمانت نہیں۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر فضا علی نے کہا کہ چھوٹی باتوں کو نظرانداز کرنا دانشمندی ہو سکتی ہے، مگر ناانصافی، بے احترامی اور ظلم کے سامنے خاموش رہنا نہ صبر ہے اور نہ وقار۔
انہوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام خاموشی کے بجائے حکمت کے ساتھ سچ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے فضا علی کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔