پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی سے جھینگوں کی افزائش شروع
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں بلیو اکانومی کے نئے دور کا آغاز ہوگیا، جدید ٹیکنالوجی سے جھینگوں کی افزائش شروع کردی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جھینگوں کی افزائش، آبی زراعت اور ویلیو چین کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے جو صوبے میں بلیو اکانومی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق 100 ایکڑ اراضی پر جھینگوں کی افزائش کے آزمائشی اور تحقیقی منصوبے کے کامیاب نتائج کے بعد اس صنعت کا باقاعدہ آغاز ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی تحقیق پر مبنی یہ منصوبہ پنجاب کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ اس جامع منصوبے میں جدید ہیچریز، ایکوا مالز، پروسیسنگ پلانٹس، کولڈ اسٹوریج سہولیات اور مربوط ٹرانسپورٹ چین شامل ہے تاکہ جھینگوں کی پیداوار سے لے کر برآمدات تک ایک مکمل ویلیو چین قائم کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ مارچ 2026 تک مظفرگڑھ اور سرگودھا میں 5 ہزار 300 ایکڑ پر مشتمل جھینگا اسٹیٹس قائم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ عالمی تحقیق و ترقی اور جدید آبی زرعی ٹیکنالوجیز کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، تھائی لینڈ، ایکواڈور، آسٹریلیا اور میکسیکو کے عالمی معیار کے ماہرین کی معاونت حاصل کی گئی ہے، جس سے اس منصوبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، مشینری موقع پر موجود ہے اور متعلقہ ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں، جبکہ مزید 2 ہزار 600 ایکڑ اراضی کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی بھی جاری ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ آئندہ سال کے آغاز میں اس منصوبے کو کسانوں کے لیے حتمی شکل دے دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جھینگوں کی افزائش
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔