انسداد پولیو مہم کا آغاز، 22 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسی نیشن کا ہدف مقرر
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
طاہر جمیل :قومی انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت لاہور میں پانچ سال سے کم عمر 22 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے ’’پولیو فری پنجاب‘‘ کے ویژن کے تحت اس مہم کے لیے عملی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے سات روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا افتتاح ڈی ایچ کیو میاں میر ہسپتال میں ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، اسسٹنٹ کمشنر کینٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ بھی موجود تھے۔
سستی اورمعیاری اشیاء کا حصول پنجاب کے عوام کا حق ہے:مریم نواز
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے لاہور بھر میں 5825 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ ہسپتالوں اور مراکز صحت میں 371 فکسڈ ٹیمیں ویکسی نیشن کے فرائض انجام دیں گی۔ اس کے علاوہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر 214 ٹرانزٹ پوائنٹس کو فعال کر دیا گیا ہے، جہاں آنے جانے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے ہدایت کی ہے کہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کی ویکسی نیشن کو ہر صورت یقینی بنایا جائے, انہوں نے فیلڈ میں موجود پولیو ورکرز کو ڈیجیٹل ڈیش بورڈ میں درست اور بروقت اندراج کی بھی ہدایت کی۔
بارش اور برف باری کا امکان،سڑکیں بند ہونے کا خدشہ
ضلعی انتظامیہ نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنی اپنی تحصیلوں میں انسداد پولیو مہم کی خود نگرانی کرنے اور تمام ٹرانزٹ پوائنٹس پر بچوں کی مکمل چیکنگ یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک مہم بلا تعطل جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔