لاہور کا دنیا کے بڑے آلودہ شہروں میں دوسرا نمبر
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
ملک کے مختلف شہروں کی فضا انتہائی آلودہ قرار دی گئی ہے، لاہور 337 ایئر پارٹیکولیٹ میٹر کے ساتھ دنیا کے بڑے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر ہے۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق کراچی کا ایئر انڈیکس 207 ریکارڈ کیا گیا ہے اور دنیا کے بڑے آلودہ ترین شہروں میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے سبب موٹرویز کے مختلف سیکشنز آمدورفت کیلئے بند کردیے گئے۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق نارووال 305 ایئر پارٹیکولیٹ میٹر کے ساتھ پنجاب کا آلودہ ترین شہر ہے۔
حافظ آباد کا اے کیو آئی 256، چکوال کا 251 اور گوجرانوالہ کا 244 ریکارڈ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔