امریکی اداکار راب رائنر اور اہلیہ مشیل چل بسیں، لاشیں گھر سے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
امریکی اداکار و ہدایتکار راب رائنر اور ان کی اہلیہ مشیل رائنر کی گھر سے لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق اداکار اور ان کی اہلیہ کیلیفورنیا میں اپنے گھر کے اندر مردہ پائے گئے، پولیس حکام نے دوہرے قتل کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق راب رائنر کے خاندان کا ایک فرد آج ان کے گھر گیا جہاں دونوں کو مردہ پایا گیا۔
اہلِ خانہ نے 78 سالہ اداکار اور ان کی اہلیہ کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ موت کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا، ہم اس اچانک نقصان سے دل شکستہ ہیں۔
قبل ازیں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ راب رائنر کے گھر سے 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، پولیس تحقیق کے بعد لاشوں کے اداکار اور اس کی اہلیہ کے نام سے شناخت کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی اہلیہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔