جنرل فیض حمید کیس: سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کیخلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل سے جوڑنے والا کوئی مواد موجود ہے اور نہ اُن کے خلاف کوئی کارروائی کی جا رہی ہے۔
فوجی عدالتوں کے حوالے سے قانونی ماہراورجج ایڈووکیٹ جنرل برانچ سے ریٹائرڈ ہونیوالے کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالت اپنے آپ کو صرف ملزم کیخلاف پیش کردہ چارج شیٹ یعنی الزامات تک محدود رکھتی ہے اور اُس سے باہر بالکل بھی نہیں جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: باجوہ کے کورٹ مارشل کا امکان؟، فیض حمید کیس میں پیش رفت؟
کرنل انعام الرحیم کے مطابق، جنرل فیض حمید کے معاملے میں ہوا یہ کہ ہاؤسنگ اسکیم کے مالک کنورمعیز کا معاملہ براہِ راست سپریم کورٹ سے فوجی حکام کو بھجوایا گیا۔
’فوجی عدالت نے اُسی معاملے کو دیکھا، اُسی کے حوالے سے ثبوت اکٹھا کیے اور پھر تقریباً 15 مہینے کے بعد اُسے منطقی انجام تک پہنچایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کنور معیز نے ہمت کی، اب اُن کی دیکھا دیکھی اورلوگ بھی ہمت کر سکتے ہیں، جن کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں تو فوجی حکام پھر ان شکایات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔
کرنل انعام الرحیم نے نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اورسابق وزیراعظم عمران خان کا تعلق بالکل ثابت کیا جا سکتا ہے اور آئی ایس پی آر کا بیان بالکل واضح ہے کہ ’ملزم پر 4 الزامات عائد کیےگئے، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اوربعض افراد کو بلاجواز نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔‘
مزید پڑھیں:جنرل باجوہ نے ٹیک اوور کی دھمکی دی، فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے، خواجہ آصف کا دعویٰ
کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کی بات بالکل واضح ہے لیکن اس کے لیے کسی اور فریق کو سامنے آ کر درخواست دائر کرنی پڑے گی۔
’سیاستدانوں کو چاہیے جنرل باجوہ کے خلاف شکایات درج کرائیں‘کرنل انعام نے کہا کہ فوجی عدالت اپنے مینڈیٹ کی رو سے کسی اور کو سزا نہیں دے سکتی، جس کے خلاف درخواست اُس کے سامنے نہ ہو۔
ان کا مؤقف تھا کہ جوسیاستدان جنرل باجوہ کے خلاف میڈیا پر باتیں کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ ان کے خلاف شکایات درج کرائیں اور اس ضمن میں اپنی جانب سے ان کا مقدمہ بغیر کسی معاوضے کے لڑنے کی پیشکش کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت،جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، آئی ایس پی آر
’اگر یہ ثابت کرنا شروع کر دیں کہ کون کون لوگ کسی خاص واقعے میں ملوث تھے تو پھر تو یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آفیشل سیکرٹ ایکٹ آئی ایس پی آر جنرل فیض حمید جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری وسائل عمران خان کرنل انعام الرحیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آفیشل سیکرٹ ایکٹ ا ئی ایس پی ا ر جنرل فیض حمید جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری وسائل کرنل انعام الرحیم کرنل انعام الرحیم جنرل فیض حمید جنرل باجوہ ا ئی ایس کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔