این ایچ ایس (NHS) کے اعداد و شمار کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ انگلینڈ کے اسپتالوں کو رواں موسمِ سرما میں شدید اور خطرناک حد تک گنجائش سے زائد مریضوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار زیادہ تعداد میں مریض اسپتالوں کے بستروں پر ’’پھنسے‘‘ ہوئے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیشنل ہیلتھ سروس کو موسمِ سرما کے روایتی بحران کے جلد آغاز کا سامنا ہے، جو فلو کے شدید پھیلاؤ (جسے ماہرین نے ’’فلو نامی‘‘ قرار دیا ہے) کے باعث مزید سنگین ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انگلینڈ میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی جانب سے بدھ سے شروع ہونے والی پانچ روزہ ہڑتال کی وجہ سے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

ہیلتھ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق رواں موسمِ سرما میں اسپتالوں میں دستیاب بستروں کی تعداد معمول سے کم ہوگی، کیونکہ ’’تاخیر سے ڈسچارج‘‘ کا مسئلہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار سردیوں کے آغاز سے قبل ہی زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔

تاخیر سے ڈسچارج سے مراد وہ مریض ہیں جو طبی طور پر اسپتال چھوڑنے کے لیے تیار ہوتے ہیں مگر مناسب نگہداشت یا رہائش کی سہولت نہ ہونے کے باعث اسپتال میں ہی قیام پر مجبور رہتے ہیں۔

سینئر ڈاکٹروں اور این ایچ ایس کے اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ تھنک ٹینک کی جانب سے نشاندہی کی گئی بستروں کی کمی اس موسمِ سرما میں پہلے سے ہی ’’انتہائی تشویشناک‘‘ حالات کو مزید بدتر بنا دے گی۔

ان کے مطابق اس کے نتیجے میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس کے باہر ایمبولینسوں کی لمبی قطاریں لگنے، مریضوں کو طویل انتظار کا سامنا کرنے، راہداریوں میں علاج (کوریڈور کیئر) کے بڑھنے، فلو کے مزید پھیلاؤ اور حتیٰ کہ شدید بیمار مریضوں کی بروقت بستر نہ ملنے کے باعث اموات کے خطرات میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

ہیلتھ فاؤنڈیشن نے انگلینڈ کے اسپتالوں میں جولائی سے ستمبر 2024 اور اسی مدت 2025 کے دوران تاخیر سے ڈسچارج ہونے والے مریضوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ تاخیر سے ڈسچارج مریضوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے بستر دنوں کی شرح 2024 میں 10.

1 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 11 فیصد ہو گئی، جو 9 فیصد اضافے یا تقریباً 19 ہزار بستر دنوں کے برابر ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ سال بہ سال ڈسچارج کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ہے، جو ماہانہ تقریباً 3,800 مریضوں کے مساوی ہے۔

گزشتہ موسمِ سرما میں این ایچ ایس کے مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ جنرل اور ایکیوٹ بستروں میں سے 14 فیصد بستروں پر تاخیر سے ڈسچارج مریض قابض رہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں موسمِ سرما میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انگلینڈ کے اسپتالوں میں موسمِ سرما کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال ایک بڑے انسانی اور انتظامی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تاخیر سے ڈسچارج کا سامنا

پڑھیں:

27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ

عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران پاکستان ریلوےکو(pakstan railways) کو 90کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کمائی ہوئی، 4 لاکھ سے زائد مسافروں نے ٹرین سے سفر کیا ۔

27 مئی سے یکم جون کے دوران ریلویز نے 90 کروڑ تیس لاکھ روپے کمائے۔ 27 جون کو 8 کروڑ 70 لاکھ ،28 جون کو 13 کروڑ 80 لاکھ روپے ریلوے کی کمائی میں آئے ۔

مزید پڑھیں:حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان

29 مئی کو 14 کروڑ 80 لاکھ اور 30 مئی کو ریلوے نے 17 کروڑ روپے کمائے۔ 31 مئی کو 16 کروڑ 70 لاکھ اور یکم جون کو پاکستان ریلوے نے 19 کروڑ 30 لاکھ کمائے ۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود