انگلینڈ کے اسپتالوں کو موسمِ سرما میں گنجائش سے زائد مریضوں کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
این ایچ ایس (NHS) کے اعداد و شمار کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ انگلینڈ کے اسپتالوں کو رواں موسمِ سرما میں شدید اور خطرناک حد تک گنجائش سے زائد مریضوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار زیادہ تعداد میں مریض اسپتالوں کے بستروں پر ’’پھنسے‘‘ ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیشنل ہیلتھ سروس کو موسمِ سرما کے روایتی بحران کے جلد آغاز کا سامنا ہے، جو فلو کے شدید پھیلاؤ (جسے ماہرین نے ’’فلو نامی‘‘ قرار دیا ہے) کے باعث مزید سنگین ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انگلینڈ میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی جانب سے بدھ سے شروع ہونے والی پانچ روزہ ہڑتال کی وجہ سے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
ہیلتھ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق رواں موسمِ سرما میں اسپتالوں میں دستیاب بستروں کی تعداد معمول سے کم ہوگی، کیونکہ ’’تاخیر سے ڈسچارج‘‘ کا مسئلہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار سردیوں کے آغاز سے قبل ہی زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
تاخیر سے ڈسچارج سے مراد وہ مریض ہیں جو طبی طور پر اسپتال چھوڑنے کے لیے تیار ہوتے ہیں مگر مناسب نگہداشت یا رہائش کی سہولت نہ ہونے کے باعث اسپتال میں ہی قیام پر مجبور رہتے ہیں۔
سینئر ڈاکٹروں اور این ایچ ایس کے اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ تھنک ٹینک کی جانب سے نشاندہی کی گئی بستروں کی کمی اس موسمِ سرما میں پہلے سے ہی ’’انتہائی تشویشناک‘‘ حالات کو مزید بدتر بنا دے گی۔
ان کے مطابق اس کے نتیجے میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس کے باہر ایمبولینسوں کی لمبی قطاریں لگنے، مریضوں کو طویل انتظار کا سامنا کرنے، راہداریوں میں علاج (کوریڈور کیئر) کے بڑھنے، فلو کے مزید پھیلاؤ اور حتیٰ کہ شدید بیمار مریضوں کی بروقت بستر نہ ملنے کے باعث اموات کے خطرات میں اضافے کا اندیشہ ہے۔
ہیلتھ فاؤنڈیشن نے انگلینڈ کے اسپتالوں میں جولائی سے ستمبر 2024 اور اسی مدت 2025 کے دوران تاخیر سے ڈسچارج ہونے والے مریضوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ تاخیر سے ڈسچارج مریضوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے بستر دنوں کی شرح 2024 میں 10.
گزشتہ موسمِ سرما میں این ایچ ایس کے مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ جنرل اور ایکیوٹ بستروں میں سے 14 فیصد بستروں پر تاخیر سے ڈسچارج مریض قابض رہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں موسمِ سرما میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انگلینڈ کے اسپتالوں میں موسمِ سرما کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال ایک بڑے انسانی اور انتظامی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تاخیر سے ڈسچارج کا سامنا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔