ٹک ٹاکر رجب بٹ کو عدالت سے ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
سیشن کورٹ لاہور نے ٹک ٹاکرز رجب بٹ اور ندیم مبارک کی جوئے کی ایپ پروموشن کے مقدمے میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔
لاہور کی سیشن کورٹ میں معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ اور ندیم نانی والا عبوری ضمانت کے لیے پیش ہوئے۔
ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے جوا ایپ کیس میں دائر عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے دونوں ملزمان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا جبکہ 6جنوری تک رجب بٹ اور ندیم نانی والے کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ رجب بٹ اسلام آباد ہائی کورٹ سے پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہیں، جس پر ہائی کورٹ نے انہیں سیشن کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت جاری کی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 6 جنوری تک توسیع دے دی۔
کیس کی مزید سماعت مقررہ تاریخ کو ہوگی۔
رجب بٹ اور ندیم نانی والا نے بیرسٹر میاں علی اشفاق کی وساطت سے ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ رجب بٹ نے ایک جبکہ ندیم نانی والا نے این سی سی آئی اے کے دو مقدمات میں ضمانت دائر کیں۔
این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رجب بٹ اور ندیم نانی ندیم نانی والا
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔