آزاد کشمیر بھر میں نوجوان عوامی ایکشن کمیٹی کے بینر تلے جمع ہو رہے ہیں، شازیہ اعوان
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
آزاد کشمیر کی سیاست کا مستقبل اب اس بات سے جڑا ہے کہ کیا جماعتیں وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نوجوان قیادت پر حقیقی اعتماد کرتی ہیں یا پھر روایتی سیاست کے دائرے میں گھومتی رہیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ شازیہ اعوان چیئرپرسن المقدس ویلفئیر سوسائٹی مظفرآباد آزاد کشمیر نے کہا ہے کہ نوجوان قیادت کیوں ضروری ہے نوجوان قیادت کی ضرورت محض عمر کی بنیاد پر نہیں بلکہ سوچ، طرزِ سیاست اور عوامی رابطے کے نئے انداز کی وجہ سے ہے، اسوقت آزاد کشمیر بھر میں نوجوان عوامی ایکشن کمیٹی کے بینر تلے جمع ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر کے روائیتی سیاستدانوں کے رویے ہیں، ایک آزاد سروے کے مطابق آزاد کشمیر میں 70 فیصد نوجوان روائیتی سینئیر سیاستدانوں پر بھروسہ نہیں کرتے، گزشتہ دو سالہ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو دیکھا جائے تو ان تمام احتجاجی مظاہروں کی بنیاد آزاد کشمیر کی سینئر سیاستدانوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور ان کے روائیتی رویے بنے، جبکہ نوجوان وزیراعظم نے عہدہ سنبھالتے ہی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات پر عملدرآمد شروع کرتے ہوئے بذات خود شوکت نواز میر سے ملاقات کی جسے پوری ریاست میں بہت سراہا گیا، اس وقت نوجوان سیاستدان آزاد کشمیر کی قیادت سنبھالنے کیلئے اس لیے ضروری ہے کہ، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور عالمی سیاسی رجحانات سے زیادہ واقف رہیں، عوام، خصوصاً نوجوان ووٹر، سے بہتر رابطہ رکھتے ہیں، روایتی مفادات کے بجائے کارکردگی اور شفافیت کو ترجیح دینے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ مستقبل کی سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں نہ کہ ماضی کی، آزاد کشمیر کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوامی اعتماد بحال کرنا چاہتی ہیں تو انہیں نوجوان قیادت کو محض نمائشی نہیں بلکہ فیصلہ کن کردار دینا ہو گا۔ بصورت دیگر سینئر قیادت کا یہ تاثر مزید گہرا ہو گا کہ وہ نہ صرف عوام بلکہ اپنی ہی ہائی کمان کو مطمئن کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست کا مستقبل اب اس بات سے جڑا ہے کہ کیا جماعتیں وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نوجوان قیادت پر حقیقی اعتماد کرتی ہیں یا پھر روایتی سیاست کے دائرے میں گھومتی رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی کے نوجوان قیادت کی سیاست
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔