Jasarat News:
2026-06-03@04:18:55 GMT

گٹر کی بدبو دار سیاست بند کرو

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اے ابن آدم کالم نگاری کوئی مذاق کام نہیں ہے، مجھے کالم نگاری کرتے کم از کم 30 سال ہوچکے ہیں, میں نے لسانیت و فرقہ واریت کے خلاف خوب لکھا، عوامی مسائل پر خوب لکھا اور جو پارٹی اقتدار میں آتی تو میری یہ کوشش ہوتی کہ اس کی اصلاح کی جائے اور اگر تنقید ضروری ہوتی تو ہمیشہ تنقید برائے تعمیر کو سامنے رکھ کر کرتا۔ کئی سال سے قارئین نے نوٹ کیا ہوگا کہ میں عوامی مسائل پر جب قلم اٹھاتا ہوں تو یہ ضرور تحریر کرتا ہوں کہ سب سیاسی جماعتوں کو آزما کر تو دیکھ لیا سوائے بربادی کے قوم کو کیا ملا، روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پارٹی نے عوام کو سوائے مسائل کے کچھ نہیں دیا ان کے بڑے سے چھوٹے سب ارب پتی بن گئے اور عوام کو ان لوگوں نے بھکاری بنادیا، روزانہ کی بنیاد پر جھوٹ بولتے ہیں عوام کو بس سنہرے خواب دکھانے کے علاوہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جو قابل تعریف ہو۔ بقول حافظ نعیم الرحمن پیپلز پارٹی ایک خاندان اور 40 وڈیروں کا نام ہے، گائوں، دیہات میں عوام کو محکوم بنایا ہوا ہے اور اب شہروں پر قبضہ کررہے ہیں اسی طرح چودھریوں، سرداروں اور چند خاندانوں نے قوم کو غلام ابن غلام بنا رکھا ہے۔ انگریز کی خدمت کے صلے میں جاگیریں لینے والے اور ان کی اولاد قوم پر مسلط ہے۔ افسر شاہی، استحصالی اور ظالم کے نظام میں عوام کو جڑا ہوا ہے، صرف اپنے اقتدار اور تسلط کو قائم رکھنے کے لیے تعلیم، معیشت، پارلیمنٹ، عدالت سمیت ہر شعبے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ تمام پارٹیاں، خاندان، وراثت اور وصیت کے نام پر چل رہی ہیں، تمام پارٹیوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے، صرف جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو ملک میں جاری اس ظلم کے نظام کو ختم کرسکتی ہے۔

پوری دنیا نے دیکھا کہ 21 سے 23 نومبر کو لاہور میں مینار پاکستان پر ملک کی تاریخ کا ایسا اجتماع منعقد ہوا جس کے نظام کو دیکھ کر دنیا حیران ہوگئی۔ یہ اجتماع دراصل ایک عوامی انقلاب کی نوید تھی جس کا عنوان تھا بدل دو نظام۔ اے ابن آدم یہ عنوان ملک و قوم کی ضرورت ہے۔ یہ محض عوامی جلسہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ ایک فکری بیداری اور بیدارِ شعور کا مظہر تھا، اتنے بڑے اجتماع نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ شہر کے گردو نواح سے لے کر بادشاہی مسجد تک ہر جانب پھیلتے ہوئے انسانی سمندر نے ثابت کردیا کہ قوم کو اب حقیقی انقلاب کی طلب ہے۔ ہمارے ملک کی روایتی سیاست موروثی قیادت اور استحصالی نظام سے عوام تنگ آچکی ہے۔ حافظ صاحب نے فرمایا کہ اسلام میں کسی بھی مقدس ہستی کو کوئی استثنا حاصل نہیں، قانون سے کوئی بالاتر نہیں تو پھر ملک کا کوئی صدر، وزیراعظم، گورنر، آرمی چیف قانون سے بالاتر کیسے ہوسکتے ہیں۔ 27 ویں ترمیم جیسے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہمارے فیصلے اسلام کے مطابق نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقوں اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات کے تحت کیے جاتے ہیں۔ آرٹیکل A-140کا مکمل نفاذ دراصل حقیقی جمہوریت کی پہلی شرط ہے جبکہ پنجاب کا موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوامی نہیں بلکہ سیاسی قبضے کا نمونہ ہے، جلسے میں ایک روڈ میپ دیا گیا اگر اس روڈ میپ پر ایمانداری سے کام کیا جائے تو یہ روڈ میپ جو جماعت اسلامی نے دیا ہے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اتنا بڑا اجتماع اتنی خوب صورت سے ختم ہوا ایک ٹیم ورک دیکھنے کو ملا اپنی مدد آپ کے تحت سارے انتظامات کیے گئے تھے۔ جماعت اسلامی ایک حقیقی اور صحت مند جمہوریت کا قیام چاہتی ہے جس کے باشندے ذی شعور ہوں حکومت کا بدلنا اور بننا ان کی آرا مرض پر موقوف ہو۔

آج میرا پاکستان 78 برس کا ہوچکا مگر آج بھی ہم محکوم ہیں، اللہ کے کرم سے ہمارے پاس بہترین انسانی مادی اور معدنی وسائل موجود ہیں مگر افسوس کہ ان تمام وسائل پر ایک خاص طبقے نے قبضہ کررکھا اور عام آدمی کو اس کے حقوق دستیاب نہیں، اسے ہر طرف محرومیوں کا سامنا ہے وہ تعلیم، صحت، خوراک و رہائش جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ جبکہ مراعات یافتہ خود ٹیکس تک دینے کو تیار نہیں اور عام آدمی پر ہر روز نت نئے اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لادا جارہا ہے، بجلی کا بل اس کی سب سے بڑی مثال ہے اس کے علاوہ Prize Band پر جو انعامات نکلتے ہیں، اس پر تو 30 فی صد تک ٹیکس لیا جارہا ہے، یہ ظلم ہے ایک آدمی برسوں سے یہ Band رکھ رہا ہے اس کے ساتھ اگر میرا بڑا انعام نکل آیا تو میں بچوں کی شادی وغیرہ یا حج کروں گا مگر افسوس اس میں بھی حکومت ایک بڑا حصہ اپنے پاس رکھتی ہے، ابن آدم کہتا ہے کہ انعام کی رقم پر 5 فی صد ٹیکس تو سمجھ آتا ہے۔ ایسے بے شمار ظلم ہیں جو یہ عوام 78 سال سے برداشت کررہے ہیں مگر اب مجھے لگتا ہے حافظ نعیم الرحمن کے تاریخی خطاب کے بعد سے نظام میں تبدیلی کی بُو آرہی ہے۔

گلشن اقبال 13-D میں بنگلہ نمبر B-60 پر ہونے والا قبضہ اور اس بدمعاش کی بدمعاشی جس طریقے سے جماعت کے کارکنوں اور عوام نے نکالی یہ اُس نظام کی تبدیلی کی ابتدا ہے، نام نہاد وکیل جو ایک شریف آدمی کے گھر پر زبردستی قبضہ کرنا چاہ رہا تھا، اس کو عوام کی طاقت نے ایسا سبق سکھایا ہے کہ اب کوئی بھی کسی کے گھر، پلاٹ پر قبضہ کرنے سے پہلے 10 بار سوچے گا، گلشن کے ٹائون ناظم اور ان کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ دوسرا واقعہ 3 سال کے فرشتے ابراہیم کا ہے جو نیپا چورنگی کے گٹر میں گر کر انتقال کرگیا، میں خود بھی وہاں موجود تھا، رات تک کوئی سرکاری ذمے دار موجود نہیں تھا۔ فاروق ستار آئے تو مشتعل عوام نے ان کو گالیاں دیں، ان کو گاڑی سے اُترنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی۔ مرتضیٰ وہاب کو میڈیا نے بے پناہ ذلیل کیا یہ گٹر کی سیاست آج سے نہیں بلکہ بھٹو صاحب کے دور سے چل رہی ہے۔ ماں باپ کے سامنے معصوم ابراہیم کا گٹر میں گر جانا ماں کی آہ اور اس ماں کا تڑپنا دل ہلا رہا تھا۔ بقول میرے دوست شبیر ارمان لوگ کہتے ہیں کہ یہ مافیاز کا شہر ہے، میں کہتا ہوں یہ بھیڑیوں کی شکار گاہ بن چکا ہے جہاں صبح و شام معصوم غریب شہری ان کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور کوئی شکاریوں کو گرفت کرنے والا نہیں ہے۔ ڈاکو، ڈکیت، ڈمپرز انہیں قتل کرتے ہیں، کچل دیتے ہیں، ناجائز منافع خور انہیں الگ لوٹتے ہیں، حرام خور راشی افسران ان کو الگ لوٹتے ہیں، سرکاری عوامی سہولت نام کی حد تک ہیں، عملی طور پر شہری ان سرکاری سہولتوں کے لیے ترستے ہیں، یہ شہر نہ ہوا جہنم ہوگیا۔ جس کو دیکھو کہتا پھرتا ہے کراچی ہمارا ہے، کراچی کے دعوے دار بے شمار ہیں لیکن اس کا اپنا غمگسار کوئی نہیں، کراچی والوں کو آخری امید اب جماعت اسلامی سے ہے۔ اے ابن آدم کراچی منی پاکستان ہے، خدارا اس چھوٹے پاکستان کو ملک کا جھومر بنائیں، کلنک کا ٹیکہ نہیں، گٹر کی سیاست کرنے والوں کا تو حشر نشر ہوگیا یہ ابتدا ہے نظام کو بدلنے کی کراچی والوں اب وقت آگیا ہے ان چوروں سے حساب کتاب لینے کا۔

شجاع صغیر سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی عوام کو

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان