آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے سڈنی کے ساحل بونڈی بیچ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

اتوار کی شام ہونے والے اس خونی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اس وقت بونڈی میں یہودی کمیونٹی کے افراد مذہبی تہوار حنوکا منا رہے تھے۔

مزید پڑھیں: سڈنی حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب، فائرنگ کرنے والا ملزم افغانی نکلا

ان کے مطابق حملہ آوروں نے دانستہ طور پر یہودیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی اکثریت آسٹریلوی شہریوں پر مشتمل ہے۔

انتھونی البانیز نے یہودی کمیونٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفظ کے لیے آئندہ مزید سخت اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد کے ذریعے نہ صرف یہودی کمیونٹی بلکہ آسٹریلیا کے تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو بھی سراہا اور کہا کہ فوری ردعمل کے باعث کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

واضح رہے کہ بونڈی بیچ کے قریب ایک بلند مقام سے 2 مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 12 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 37 زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

واقعے کے دوران ایک حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ دوسرے حملہ آور کو 43 سالہ مسلم شہری احمد ال احمد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قابو میں لیا۔

مزید پڑھیں: سڈنی فائرنگ واقعہ: اپنی جان پر کھیل کر کئی جانیں بچانے والا مسلمان شہری احمد ہیرو قرار

اس دوران احمد ال احمد خود بھی 2 گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

احمد ال احمد نے نہ صرف مسلح شخص کو دبوچا بلکہ اس سے اسلحہ چھین کر گرفتاری کو ممکن بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آسٹریلوی وزیراعظم سڈنی فائرنگ شدید مذمت وی نیوز یہودی کمیونٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا سٹریلوی وزیراعظم سڈنی فائرنگ وی نیوز یہودی کمیونٹی یہودی کمیونٹی

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار