شبلی فراز کی خالی نشست پر ووٹنگ جاری، پی ٹی آئی میں اختلاف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سابق وفاقی وزیر شبلی فراز کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل اسلام آباد میں جاری ہے۔
پہلا ووٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار احسان اللہ نے کاسٹ کیا، جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے خرم ذیشان اور اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تاج محمد آفریدی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
خرم ذیشان کے کورننگ امیدوار عرفان سلیم نے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیے، جس سے انتخابی عمل مزید دلچسپی اختیار کر گیا ہے۔
ایوان میں اس وقت پی ٹی آئی کے 92 ممبران اور اپوزیشن کے 49 ممبران موجود ہیں، جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کے 4 ارکان نے آج کے انتخاب میں کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یا د رہے کہ یہ نشست سینیٹر شبلی فراز کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی، جنہیں الیکشن کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات میں تضاد کے باعث نااہل قرار دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔