یوکرین جنگ، ٹرمپ تجاویز پر روس اور امریکا کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
یوکرین جنگ، ٹرمپ تجاویز پر روس اور امریکا کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، تعاون جاری رکھنے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز
ماسکو (آئی پی ایس )روسی اور امریکی وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا جا سکا تاہم تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔روسی حکومت کے ترجمان یوری اوشاکوف نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ گفتگو بہت مفید اور تعمیری تھی لیکن مذاکرات میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور آئندہ بھی مذاکرات کے دور ہوں گے۔یوری اوشاکوف نے مزید بتایا کہ یوکرین کی زمینی حدود سے متعلق سب سے اہم معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔
اس سے بل یوکرین اور یورپی ممالک نے بھی ٹرمپ کے امن نکات کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد کچھی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔امریکی اور روسی وفد نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ بھی کیا اور چند نکات پر روسی صدر نے مثبت اشارہ دیا۔جس کے یوکرینی صدر نے بھی مشاورتی اجلاس طلب کیا اور صدر ٹرمپ سے خصوصی ملاقات کا عندیہ بھی دیا تھا۔امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس صورتحال کو مشکل اور بڑا گھمبیر معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ہر ماہ دسیوں ہزار جانیں لے رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین امن مذاکرات کے لیے جو نکات پیش کیے وہ تاحال خفیہ ہیں تاہم ان میں سے کچھ نکات لیک ہوگئے تھے۔جن کے مطابق امریکی امن منصوبے میں روس نے یوکرین کی فوج کی تعداد محدود کرنے، پورے ڈونباس پر کنٹرول اور زاپوریژیا و خیرسون میں اپنی موجودگی کے باضابطہ اعتراف جیسے مطالبات کیے تھے۔جس پر یوکرین نے ان نکات کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایم ایف کی کرپشن پر رپورٹ، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ ہونے پر سینیٹ کمیٹی حکومت پر برہم آئی ایم ایف کی کرپشن پر رپورٹ، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ ہونے پر سینیٹ کمیٹی حکومت پر برہم گلگت بلتستان کے صوبائی انتخابات کا شیڈول جاری، 24جنوری کو پولنگ فیلڈ مارشل سے رائل سعودی لینڈ فورز کے کمانڈر کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پی آئی اے نجکاری کیلئے بولی 23دسمبر کو ہوگی، ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائیگی، وزیراعظم تحریک انصاف کی سیاسی اور ٹیکنوکریٹ قیادت کے اختلافات شدت اختیار کرگئے جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین چوہدری محمد یسین کے بھائی اکبرچوہدری محمد حنیف انتقال کر گئے ، نمازجنازہ ایچ ایٹ قبرستان میں...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جاری رکھنے پر اتفاق
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔