سندھ کا وفاق سے ملکی سطح پر گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ حکومت نے وفاق سے ملکی سطح پر گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث صوبائی حکومتیں وفاق کی ہدایت کے بغیر کسانوں کو امدادی قیمت نہیں دے سکتیں، گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کسان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
سردار محمد بخش مہر نے مطالبہ کیا کہ وفاق کم از کم گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 200 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کرے۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی بھی گزشتہ روز گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملی تو وہ گندم کی کاشت چھوڑ کر دیگر فصلوں کی طرف جا سکتے ہیں، جس سے ملک میں غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ سندھ نے کسانوں کے لیے گندم اگاؤ سپورٹ پروگرام کے تحت 56 ارب روپے کا امدادی پیکیج متعارف کروایا ہے، جس کے تحت کسانوں کو یوریا کھاد اور ڈی اے پی خریدنے کے لیے فی ایکڑ 24 ہزار 700 روپے سبسڈی دی جائے گی، یہ سہولت ایک تا 25 ایکڑ زمین والے 4 لاکھ 11 ہزار کاشت کاروں کو دی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ 32 ہزار 601 کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور مزید کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، ہم نے ہاری کارڈ اسکیم کے تحت ہاریوں کے لیے 8 ارب روپے بھی الگ مختص کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں 52 ہزار 993 ہاری کارڈ نئے رجسٹرڈ ہاریوں میں کسان سندھ بینک کی تمام برانچز کے ذریعے تقسیم کا عمل جاری ہے، یہ اسکیم 58 ارب روپے کے امدادی پیکیج سے بالکل الگ ہے۔
وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت ہے کہ سندھ کے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گندم کی امدادی قیمت مقرر مقرر کرنے کا کسانوں کو نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔